الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 79
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 79 تمامتر علمی کاوش کے باوجود اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔مثال کے طور پر مذکورہ بالا حوالہ کو پھر پڑھیں جس کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں: ” مجھے یہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے 866 اس میں سقراط نے انگریزی لفظ 'God' کو واحد کے صیغہ میں استعمال کیا ہے لیکن اس کے با وجود ولا سٹوز نے اسے '' کی بجائے ھی سے لکھا ہے۔بچے خوابوں، الہامات اور دوسری قسم سے تعلق رکھنے والے معین احکام کے متعلق اپنے صاحب تجربہ ہونے کے بارہ میں سقراط کا بیان اتنا قوی اور انبیاء علیہم السلام کے آفاقی تجربہ کے ساتھ ہم آہنگ ہے کہ اس سلسلہ میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ سقراط جو کچھ کہ رہا ہے حقیقت حال کے مطابق ہے۔قرآن کریم کی بہت سی آیات سقراط کے اس بیان کی تائید کرتی ہیں جن میں آنحضرت ﷺ سے قبل کے تمام انبیاء کے بارہ میں یہ ذکر ملتا ہے کہ ان سے بھی بعینہ ق 956 اللہ تعالیٰ نے اسی طریق پر کلام کیا جس طرح آنحضرت ﷺ سے کلام فرمایا۔ولاسٹوز اپنے ” متضاد نظریہ کو آگے بڑھاتے ہوئے سوال اٹھاتا ہے کہ : اس کی وجہ سے کیا ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہئے کہ دیوتاؤں کے بارہ میں علم حاصل کرنے کیلئے سقراط دو مختلف ذرائع کا سہارا لیتا ہے۔ایک عقل اور ایک ماورائے عقل۔نتیجہ صحیح عقائد تک پہنچنے کیلئے دو مختلف نظام جنم لیتے ہیں۔ایک وہ جس تک عقلی دلائل کی رسائی ہوتی ہے اور دوسرا وہ جس تک الہام کے ذریعہ پہنچا جاتا ہے جو کہ کسی ہاتف غیبی (oracles)، بچے خوابوں اور دیگر ایسے ذرائع سے عبارت ہے۔یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ سقراط کے نظریہ اور اس کے ذاتی تجربہ کے درمیان کیسے کیسے فرضی تضاد پیدا کئے جاسکتے ہیں۔بہر حال سقراط کے متعلق یہ بات تو یقینی ہے کہ وہ نام نہاد یونانی دیوتاؤں پر تنقید کیا کرتا تھا اور oracles یعنی پر اسرار قسم کے علم غیب کے جاننے کے انکشافات اور پیشگوئیوں کو قابل اعتبار نہیں سمجھتا تھا۔البتہ جب وہ اپنے ذاتی تجربہ یعنی الہام الہی یا رویائے صادقہ کا ذکر کرتا ہے تو کبھی بھولے سے بھی اس کا مذاق نہیں اڑاتا۔مصنف یعنی ولاسٹوز نے الہام الہی کے بعد oracles کے لفظ کا اضافہ کر کے سقراط کے ساتھ سخت نا انصافی کی ہے کیونکہ اس