جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 702
خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔702 اس وقت حضرت خلیقہ مسیح الرابع (رحمہ اللہ) کو فن نہیں کیا گیا تھا اور نہی نیا انتخاب ہوا تھا۔تاریخ تحریر 17 نومبر 2005ء) ۲۲۲۔مکرم محمود احمد خالد صاحب۔معلم وقف جدید شاد یوال ضلع گجرات حضرت خلیلہ صبیح الرابع (رحمہ اللہ) کی وفات کی خبر جماعت احمد یہ عالمگیر کے لئے ایک بہت بڑا صدمہ تھا کہ ہر آنکھ ہی اشکبار تھی ان میں ایک ذرہ ناچیز میں بھی تھا۔یکدفعہ یوں لگا جیسے زلزلہ آ گیا ہے اور زمین ہی تہ و بالا ہوگئی ہے زندگی میں کئی صدمے بھی آئے مگر اس قدر تکلیف اور دکھ پہنچا کہ خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ہر لمحہ ٹی وی کی سکرین پر آنکھیں مرکوز ہو کر رہ گئیں۔ایک ایک پل، ایک ایک لمحہ کرب و اذیت میں گزرا اور یہ صبر آزما دور طویل ہی ہوتا گیا۔نہ جانے آنکھوں میں اتنا پانی کہاں سے آگیا تھا کہ بے اختیار بہتا ہی چلا گیا دنیا کی ہر چیز ہی اداس اور سوگوار ہوگئی فضا ئیں بھی سسکیاں بھرنے لگیں تھیں نہ اندر چین نہ باہر۔اسی بے قراری کے عالم میں رات پونے بارہ بجے ٹی وی بند کیا اور لیٹ گیا۔یہ مورخہ 22 را پریل کی رات تھی کہ خواب میں دیکھا کہ حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام والا کوٹ اور انگوٹھی پہنائی جارہی ہے۔اس کے ساتھ ہی آنکھ کھل گئی یہ واقعہ پوری طرح ذہن پر حاوی تھا۔لیکن اس خیال کو دل سے جھٹکنے کی کوشش کی کہ ایسا خیال ہی کیوں آیا پر یہ تو خواب تھا بے اختیاری