جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 642
خلافت خامسه : مبشر رویا ، خوا ہیں اور الہی اشارے ۱۵۰ مکرم تنویر اختر شاہد صاحب۔اسلام آباد 642 عاجز نے حضرت خلیفہ مسیح الرابع (رحمہ اللہ) کی وفات کے بعد قیام خلافت خاصہ کے متعلق یہ عجیب خواب دیکھا جو خلافت پر ایمان کے بعد میرے لئے اطمینان قلب کا باعث ہوا۔قائمد للہ علی ذالک۔19 اور 20 اپریل کی درمیانی رات صبح 3:45 پر میری آنکھ اس حال میں کھلی کہ میں خواب میں دیکھ رہا تھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع ( رحمہ اللہ ) خطبہ ارشاد فرما رہے ہیں۔سامعین سے بیت الذکر کھچا کھچ بھری ہوئی ہے اور یہ عاجز بھی ان سامعین میں شامل ہے۔ہم سب سامعین کو اور حضرت خلیفہ مسیح الرابع (رحمہ اللہ ) کو بھی یہ بات معلوم ہے کہ حضور اپنی زندگی کا یہ آخری خطبہ ارشاد فرمارہے ہیں اور خطبہ کے بعد آپ فوت ہو جائیں گے گویا یہ آپ کی وصیت ہے۔خطبہ تو لمبا تھا جس کا پہلا حصہ نہ تو خواب میں ہی یاد تھا نہ بعد میں ہی یاد آتا ہے نہ اس مضمون کے متعلق ہی میں کچھ اندازہ کر سکتا ہوں۔ہاں آخری حصہ خواب میں بھی اچھی طرح غور سے سنا۔یادر ہا اور وہ میرے ذہن کے پردے پر ہرلمحہ ثبت ہے۔اکثر الفاظ وہی ہیں جوخواب میں سنے۔آپ نے فرمایا "میرے بعد حضرت مرزا ناصر احمد صاحب اس منصب کو سنبھالیں گے اور جب میرا دور خلافت تھا اس وقت وہ زندہ ہی تھے گو وہ خلیفہ نہ تھے بلکہ میں ہی خلیفہ تھا اور وہ پس منظر میں رہ رہے تھے۔انہیں جگر کی تکلیف ہے اور میری نصیحت ہے کہ کوئی شخص ان کی اس بیماری کی وجہ سے ان پر اعتراض نہ کرے اور ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے۔انہیں جرمنی، انگلستان وغیرہ علاقے میں رہنا ہوگا۔میں بڑی بڑی جماعتوں کو نصیحت کرتا ہوں (غالبار بوہ کا نام لے کر کہا لیکن جرمنی اور انگلستان کی طرف بھی اشارہ ذکر کیا ) کہ جس طرح نواز شریف کے پاکستان چھوڑنے کے بعد پاکستان میں رہنے والے اس کی پارٹی کے لوگوں نے جو سلوک اس کے ساتھ اور پارٹی اور پارٹی کے اثاثوں کے ساتھ کیا ویسا سلوک ان (حضرت مرزا ناصر احمد ) کے ساتھ نہ کریں۔اس کے بعد آپ