جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 640 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 640

خلافت خامسه : مبشر رویا ، خوا ہیں اور الہی اشارے 640 ۱۳۸۔مکرمہ امتہ الرحمن صاحبہ۔خیر پور سندھ 19-20 / اپریل 2003ء کی درمیانی شب دیکھا کہ ایک بڑا کمرہ ہے جس میں خلافت کمیٹی کا اجلاس ہورہا ہے۔ایک بڑا میز ہے جس کے گرد کرسیاں لگی ہوئی ہیں جن پر انتخاب کمیٹی کے اراکین بیٹھے ہوئے ہیں۔اجلاس میں دو افراد کے نام خلیفہ کے لئے پیش کئے گئے ہیں۔جن میں سے ایک نام میاں مسرور احمد کا ہے۔اور دوسرا نام صبح اٹھنے پر ذہن میں نہیں تھا۔آپ سے میں متعارف نہیں تھی۔دوسرے صاحب جن کا نام پیش ہوا تھا ان کا حلیہ یوں تھا۔وہ شخص دیکھنے میں سخت مزاج لگ رہا تھا۔اس کی کھچڑی داڑھی تھی۔وہ درمیانے قد اور ذرا بھاری جسم کے مالک تھے۔صدارتی کرسی سے وہ صاحب دائیں سائیڈ پر بالکل قریب بیٹھے ہوئے تھے۔ٹیبل پر جس طرح بیلٹ پیپر ہوتے ہیں۔اس طرح کی دو ڈھیریاں پڑی ہوئی ہیں۔جن میں سے ایک ڈھیری بالکل چھوٹی سی ہے۔اور دوسری ڈھیری اس سے تقریباً 3 گنا سے بھی زیادہ ہے۔جو پرچیاں زیادہ ہیں ان پر میاں مسرور احمد لکھا ہوا ہے۔میں پوچھتی ہوں کہ کون خلیفہ بنا ہے وہ فرد جو اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ان میں سے بائیں طرف والے مجھے جواب دیتے ہیں کہ میاں مسرور احمد صاحب کے ووٹ زیادہ ہیں۔یہ جواب سن کر دوسرے صاحب جن کا نام خلیفہ کے لئے پیش ہوا ہے ان کے چہرے پر غصہ کے تاثرات نمایاں ہو جاتے ہیں لیکن وہ کہتے کچھ نہیں۔اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔( تاریخ تحریر 24 را پریل 2003ء)