جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 639 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 639

خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 639 نیم دائرہ میں کھڑے ہیں۔سامنے تابوت ہے ایک خادم کرسی لا کر تابوت کے پاس رکھتا ہے۔کرسی تابوت سے اونچی ہے اور ایسی روشن اور چمکدار ہے کہ میں سوچتی ہوں کہ چاندی کی کرسی ہے۔اتنے میں تمام فضا اللهم صل على محمد و آل محمد کی آوازوں سے گونج اٹھتی ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرسی پر تشریف فرما ہیں۔اور ساتھ ہی اپنا دست مبارک حضرت صاحب کی طرف بڑھاتے ہیں (جیسے مصافحہ کیا جاتا ہے ) اسی وقت حضرت صاحب کا ہاتھ بھی آگے ہوتا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ہاتھ کو تھام کر کھڑے ہو جاتے ہیں تو ساتھ ہی حضرت صاحب بھی کھڑے ہو جاتے ہیں اور دونوں ساتھ ساتھ چل پڑتے ہیں تمام فضا متواتر درود شریف کی آوازوں سے گونج رہی ہے۔میں بھی زورزور سے اللـهـم صــل على محمد و آلِ محمد پڑھتی جاتی ہوں اور زار و قطار رو بھی رہی ہوں اور بے قراری سے ادھر ادھر بھاگتی ہوں اور اپنی سہیلیوں کو آواز میں دیتی ہوں کہ حمیدہ۔صدیقہ دیکھو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صاحب کو اپنے ساتھ لے جارہے ہیں۔اس طرح بار بار کہتی ہوں اور ساتھ درود شریف بھی پڑھتی جاتی ہوں۔گویا ان کو متوجہ کرنا چاہتی ہوں۔اتنے میں دیکھتی ہوں کہ آپ کے تابوت کی جگہ خالی ہے اور زمین پر سفید چادر بچھی ہے۔کرسی اسی طرح خالی رکھی ہے ایک طرف سے حضرت مرزا مسرور احمد صاحب آکر اس کرسی پر انتہائی آرام سے بیٹھ گئے ہیں۔درود شریف کا شور متواتر ہے کہ ساتھ ہی اللہ اکبر کی آواز آتی ہے اور آنکھ کھل جاتی ہے اس وقت فجر کی آذان ہو رہی تھی میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور لب پر یوں درود شریف جاری ہے۔اللهم صل على محمد وال محمد۔سبحان الله و بحمده سبحان الله العظيم۔( تاریخ تحریر 14 مئی 2003ء)