جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 62 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 62

خلافت اولی : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے خواجہ کمال الدین صاحب کی ایک رویا قیام خلافت اولیٰ کی نسبت 29 62 "احمدی جماعت میں بہت تھوڑوں کو اس بات کا علم ہے کہ میں نے ہی سب سے اول حضرت قبلہ کو اپنی طرف سے اور اپنے خاص احباب کی طرف سے خلافت کا بارگراں اٹھانے کے لئے عرض کیا۔اس کی بناء کوئی مصلحت وقت نہ تھی بلکہ اشارہ ربی جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام 26 مئی 1908 ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے۔میں نے شب درمیان 23-24 رمئی 1908ء کو ایک عجیب رؤیا دیکھا۔میں ان واقعات کا ذکر بھی نہ کرتا لیکن چونکہ بعد کے واقعات اور موجودہ واقعات نے اس رویا کی صداقت پر مہر لگا دی ہے اس لئے میرے نزدیک ہر ایک سلیم الفطرت احمدی کے لئے یہ ایک قطعی شہادت ہے۔میں نے دیکھا کہ میں اور میرے ہمراہ شاید اور نو یا دس یا گیارہ احباب ہیں جن میں سے ایک مولوی محمد علی صاحب ہیں ہم سب کسی شاہی خاندان میں سے ہیں لیکن جس خاندان کے ہم ممبر ہیں ان کا سرتاج تخت سے الگ ہو چکا ہے۔اور نئی سلطنت قائم ہوگئی ہے اور پہلا دور بدل گیا ہے۔اور ہم یہ نو دس آدمی اسیران سلطانی ٹھہرائے گئے ہیں۔ہم سخت تشویش میں ہیں کہ اتنے میں ہمیں اطلاع ہوئی کہ نئی سلطنت کا سرتاج ہم کو طلب کرتا ہے اور ہمیں ہماری قسمت کا فیصلہ سناتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔جب میں کمرہ سلطان کے اندر داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ نیا حاکم خود مولوی نورالدین صاحب ہیں۔" تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 192 جدید ایڈیشن)