جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 618
خلافت خامسه : مبشر رویا ، خوا ہیں اور الہی اشارے ۱۲۷ مکرم وسیم احمد نثار صاحب۔شکا گوامریکہ 618 14 اور 15 اپریل 2003ء کی درمیانی رات کو عشاء کی نماز کے بعد جب میں سو گیا تو خواب میں دیکھا کہ حضرت خلیفہ المسیح الرابع ( رحمہ اللہ ) ایک بہت بڑے جلسہ سے خطاب کر رہے ہیں۔جلسے کے لوگ میں نے نہیں دیکھے مگر خواب میں میرا احساس تھا کہ یہ کوئی بڑا جلسہ ہے جس میں بہت سے لوگ شامل ہیں۔اس کے ساتھ یہ بھی احساس تھا کہ حضور ( رحمہ اللہ ) کافی دیر سے خطاب کر رہے ہیں۔خواب میں آپ کی تقریر کے کوئی بھی الفاظ مجھے سنائی نہیں دیتے سوائے اس کے کہ حضور ( رحمہ اللہ ) نے فرمایا اس کے نتائج آپ کو آئندہ زمانے میں نظر آئیں گے یہ فقرہ حضور (رحمہ اللہ) نے کم از کم دو بار فرمایا۔اور یہ فقرہ میرے دل و دماغ پر نقش ہو گیا۔کچھ سمجھ نہ آیا کہ اس خواب کا کیا مطلب ہوسکتا ہے۔اسی سوچ میں میں پھر سو گیا۔بعد میں اسی رات پھر خواب میں دیکھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع ( رحمہ اللہ ) اکیلے ایک بہت روشن کمرے میں ایک خوبصورت کرسی پر تشریف فرما ہیں۔آپ کا چہرہ مبارک نہایت روشن اور خوبصورت نظر آرہا ہے۔آپ (رحمہ اللہ ) نے اپنی پگڑی اپنے سر سے اتار کر ساتھ پڑی ہوئی میز پر رکھی ہوئی ہے اور پگڑی کی جگہ آپ نے ایک سفید رنگ کی ٹوپی پہن رکھی ہے۔(ٹوپی کپڑے کی بنی ہوئی محسوس ہوتی ہے لیکن اس بارہ میں یقین نہیں ہے ) اس کے بعد آپ کے کمرہ میں ایک شخص داخل ہوتا ہے جس کا چہرہ میں نے خواب میں نہیں دیکھا کیونکہ وہ حضور ( رحمہ اللہ) کی طرف جارہا تھا۔اس لئے نہیں کہہ سکتا کہ وہ شخص کون تھا۔بالکل واضح الفاظ میں حضور (رحمہ اللہ ) نے اس شخص سے کہا " یہ پگڑی تم پہن لو، میں تمہیں خوشی سے دیتا ہوں " خواب ہی میں میں سوچتا ہوں کہ شاید حضور ( رحمہ اللہ ) کا مطلب ہے " میں تمہیں خوشی سے دیتا ہوں " اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی جب وقت دیکھا تو فجر کی نماز کا ٹائم تھا۔( تاریخ تحریر 28 اپریل 2003)