جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 56
خلافت اولی : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 56 کر دے اس پر خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تو تیرہ سوسال پہلے سے احمد کے بعد تیری بھی پیشگوئی کی ہوئی ہے پس تجھے کون مٹا سکتا ہے۔" ( حضرت مولانا نورالدین صاحب) منکرین خلافت کے ذکر پر فرمایا کرتے تھے کہ iv۔" میری خلافت کی اطلاع تو آج سے تمہیں سال پہلے خدا تعالیٰ نے دے دی تھی۔چنانچہ میاں نجم الدین صاحب مرحوم بھیروی کی برادرزادی کو جو ملہمہ تھیں تمہیں سال پہلے بتلایا گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا میں خلیفہ ہوں گا۔اور یہ وہ وقت تھا جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وجود کا بھی کوئی پتہ نہ تھا۔غالباً الفاظ یہ تھے ( کوئی کہنے والا کہتا ہے ) کہ مولوی نور الدین صاحب خلیفتہ المسیح کہاں ہیں چنانچہ خاکسار نے خود میاں نجم الدین صاحب مرحوم سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو بھی اس کا علم ہے تو مرحوم نے فرمایا کہ میں آج سے تمہیں سال پہلے سے جانتا تھا کہ مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اسیح بننے والے ہیں کیونکہ میری برادر زادی کو اس وقت جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی کوئی ذکر نہ تھا خدا تعالیٰ نے بتلایا تھا کہ مولوی نور الدین صاحب کو خلیفہ اسی بنایا جائے گا۔" نویں شہادت روزنامه الفضل 22 اگست 1940ء) میر محمد سعید صاحب کی یاد داشت بابت خلافت اولی حضرت مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر البدر اپنے مضمون میں تحریر فرماتے ہیں۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد آپ کا جانشین وہ شخص ہے جس کے جھنڈے کے نیچے خدا تعالیٰ نے تمام جماعت کو فوراً جمع کر دیا اور پیشتر اس کے حضرت اقدس کو دفن کیا جاتا تمام جماعت نے بالا تفاق حضرت مولوی نورالدین صاحب کو حضرت مسیح موعود کا خلیفہ مان لیا اور