جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 57
خلافت اولی : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 57 آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔اور کوئی بے اتفاقی واقع نہیں ہوئی۔سچ تو یہ ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود کی زندگی میں ہی بہت لوگوں کی نظریں اس طرف جارہی تھیں کہ ہمارے درمیان حضرت اقدس کے بعد جانشین ہونے والا وجود نور الدین کا ہی ہے چند ماہ کی بات ہے کہ مخدومی خواجہ کمال الدین صاحب نے مجھ سے دریافت کیا تھا کہ اگر خدانخواستہ آج حضرت صاحب ہمارے درمیان میں سے اُٹھ جاویں تو پھر کیا ہو۔کیونکہ مخالفین کی نظر اس بات پر ہے کہ جو قوت لوگوں کو ایک لڑی میں پرونے اور ایک جگہ جمع کر دینے کی حضرت مرزا صاحب میں موجود ہے آئندہ زندگی اس سلسلہ کی کسی ایسی ہی قوت والے جانشین کے پیدا ہونے پر منحصر ہے۔تو میں نے خواجہ صاحب کی خدمت میں عرض کی تھی کہ یہ قوت اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مولوی نورالدین صاحب میں موجود ہے اور ان کے بعد خدا تعالیٰ کسی اور کو دے دے گا۔اس واسطے ظاہری نظر میں ہی یہ سلسلہ پورا استحکام رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسے کسی زلزلہ کا خوف نہیں۔خواجہ صاحب نے میری بات کی تائید کی اور فرمایا کہ میرا تو دل تیار ہے کہ مولوی صاحب موصوف کے ہاتھ پر بیعت کر لے۔حضرت مرز اصاحب کی وفات کے وقت ہی حضرت سید مولوی محمد احسن صاحب نے حضرت مولوی صاحب موصوف کی خدمت میں حاضر ہوکر جو پہلا لفظ بولا وہ یہی تھا کہ آپ صدیق اکبر ہیں۔حضرت کا جنازہ لاتے ہوئے ریل گاڑی میں ہم سوار تھے اور میں مختلف احباب کو دیکھنے کے واسطے راہ کے اسٹیشنوں پر مختلف گاڑیوں میں بیٹھتا رہا۔میں نے دیکھا کہ سب کے قلوب اس امر کی طرف جھکے ہوئے تھے کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب ہمارے امام ہوں اور میر محمد سعید صاحب نے تو مجھے اپنی نوٹ بک میں ایک یادداشت دکھائی جس پر یہ الفاظ لکھے تھے۔