جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 517 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 517

خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 517 نہیں کرنا چاہیے تھا) اپنی اہلیہ محترمہ زکیہ فردوس صاحبہ سے اور مجھے یاد پڑتا ہے اپنے بیٹے عزیزم سعید الدین احمد سے بھی کیا تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ میرے والد محترم چوہدری نذیر احمد سیالکوٹی صاحب مرحوم جن کو افراد خاندان سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عقیدت کی حد تک پیار تھا نے کبھی بھی مجھے کسی فرد خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات کے لئے مجبور نہ کیا تھا مگر دو ہستیوں کے لئے۔ایک حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب اور دوسرے حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کے لئے۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب سے تو خاکسار خوب واقف تھا۔وہ بھی مجھے جانتے تھے۔مگر حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب سے نہ میں واقف تھا اور نہ آپ مجھے جانتے تھے اس لئے ملاقات میں مجھے حجاب سا رہا مگر میرے اباجان نے مجھے اس شخصیت سے ملنے کے لئے بہت مجبور کیا۔آپ چونکہ نائب وکیل المال تھے اور محترم ابا جان ان کے دفتر میں بطور واقف زندگی ملازم تھے۔بالآخر مجھے حضرت صاحبزادہ صاحب سے ملا کر ہی محترم ابا جان نے سانس لیا۔محترم اباجان کی وفات چونکہ نومبر 1993 ء کی ہے اس لئے یہ واقعہ اس سے پہلے کا ہے۔اس سے قبل چونکہ محترم اباجان نے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب سے ملاقات کرنے پر مجبور کیا تھا اور بعد ازاں آپ خلافت کے مقام پر متمکن ہو گئے۔اس لئے مجھے یہ بات کھٹک گئی کہ محترم ابا جان جو بہت نیک اور متقی فراست رکھنے والی اور دور رس نگاہ رکھنے والی شخصیت تھے اپنی روحانی آنکھ سے حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کو خلافت کے مقام پر دیکھ رہے تھے۔تبھی تو مجھے ملاقات پر مجبور کیا۔واللہ اعلم بالصواب۔خاکسار نے اس بات کو اپنے بھائیوں سے ذکر کیا تو دو بھائیوں عزیزم مجید احمد بشیر سلمہ اللہ لا ہور اور عزیزم ڈاکٹر مبارک احمد شریف مسلمہ اللہ ربوہ نے اس کی تصدیق کی اور کہا کہ اباجان نے ہمیں بھی بہت مجبور کر کے محترم میاں صاحب سے ملوایا تھا۔اور ملاقات کرنے کے