جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 515
خلافت خامسه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے -i ۲۷ مکرمه فرحت باجوہ صاحبہ گلشن آباد ہاؤسنگ سوسائٹی راولپنڈی 515 اگست 1999 ء میں جب حضرت خلیلہ اسمع الرابع (رحمہ اللہ ) بیمار تھے تو میں نے ان کے لئے نفل پڑھ کر دعا کی تو خواب میں دیکھا کہ دو بیر کیں ہیں۔ایک میں صف پر حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب بیٹھے ہیں تو ساتھ میں علمی شافعی جولقاء مع العرب پروگرام میں آتے تھے۔آکر آپ کے پاس بیٹھ جاتے ہیں۔رات کا وقت ہے اور لوگوں کا بہت بڑا ہجوم ہے اور لوگ رور ہے ہیں۔دوسری بیرک میں خلافت کا انتخاب ہورہا ہے۔اور تھوڑی دیر بعد لوگ رو بھی رہے ہیں اور ایک دوسرے کو مبارک باد بھی دے رہے ہیں۔یہ بعینہ وہی منظر تھا جو خلافت خامسہ کے انتخاب کے وقت MTA پر دیکھا۔ii۔خواب میں دیکھا کہ میرے ابا جان مرحوم چوہدری احمد حسین صاحب باجوہ (جو اس وقت حیات تھے ) وہ شادی کر رہے ہیں اور میری والدہ بہت رنجیدہ ہیں کہ میرا بھائی مسرور احمد ( جو جرمنی میں ہے ) ایک کرسی پر جو بہت ہی خوبصورت ہے آکر بیٹھ جاتا ہے۔تھوڑے فاصلے پر میری کزن بشری عطا ء اللہ بھی بیٹھی ہے۔!!!~ میرے ابا جان مرحوم ( جو اس وقت حیات تھے اور ان کی وفات 23 جون 2005ء کو ہوئی ) ایک کرسی پر بیٹھے ہیں کہ دیکھتے ہی دیکھتے ان کا چہرہ میرے بھائی مسرور احمد کے چہرے میں بدل جاتا ہے۔یہ خواہیں میں نے تقریباً چار سال پہلے دیکھی تھیں۔تاریخ تحریر 25 /اکتوبر 2005ء)