جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 455
خلافت رابعه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے ۱۳۴ مکرم ثاقب زیروی صاحب ایڈیٹر ہفت روزہ " لا ہور " 455 حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ( رحمہ اللہ ) کی وفات کی خبر سن کر ہم ربوہ پہنچے تو اس رات یعنی 9 جون 1982ء کی رات دو بجے تہجد میں خلافت کے لیے دعاؤں میں مصروف تھا کہ میں نے بلند آواز میں کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ " ابن مریم آ رہا ہے" جب حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ المسیح کے طور پر منتخب ہوئے تو خواب کی حقیقت سامنے آئی کیونکہ آپ کی والدہ کا نام حضرت مریم ہے۔تاریخ تحریر 29 نومبر 1997ء) ۱۳۵ مکرمه عذرا پروین صاحبہ بنت میاں محمد اسماعیل بچیکی ضلع شیخوپورہ حضرت خلیفہ امسیح الثالث (رحمہ اللہ) کی وفات کی خبر سن کر 19 جون کو ہم ربوہ گئے۔والدہ کی طبعیت خراب ہوگئی ہمیں واپس آنا پڑا۔ربوہ سے آنے کے بعد بہت بے چینی اور گھبراہٹ تھی۔سارا دن روتے اور دعائیں کرتے گزرا۔کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو ثابت قدم رکھے۔اور خلافت کے انتخاب کا مرحلہ بخیر و خوبی انجام پائے۔میں مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد ذرا لیٹی۔تو مجھے نیند آ گئی۔تھوڑی دیر بعد آنکھ کھلی تو زبان پر یہ الفاظ تھے۔"بشرى لَكُمُ " پھر آنکھ لگ گئی جاگنے پر زبان پر یہی الفاظ تھے۔اور دو تین بار ایسا ہی ہوا۔اس سے مجھے تفہیم اور تسلی ہوگئی۔کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں انتخاب کا مرحلہ بخیر وخوبی انجام پا گیا ہے۔جمعہ کے روز صبح صبح یہاں سے جو خدام گئے ہوئے تھے انہوں نے آکر بتایا کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ