جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 420 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 420

خلافت رابعه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے ۹۴ مکرمہ طاہرہ انو را بر وصاحبہ بنت محترم الحاج علی انور صاحب ابڑولاڑکانہ 420 حضرت خلیفہ امسح الثالث (رحمہ اللہ) کی علالت کے دوران ایک رات بہت زیادہ رقت اور بے چینی سے اپنے پیارے آقا کے لئے دعا کی۔اسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میری امی اسلام آباد جارہی ہیں اور خواب دیکھتے ہوئے ذہن پر یہ تاثر تھا کہ جس طرح قادیان اور ربوہ ہمارے لئے مقدس شہر ہیں اسی طرح اسلام آباد بھی مقدس ہے۔یعنی جس طرح ادھر بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام رہ چکے ہیں۔میں امی سے کہتی ہوں کہ میں بھی آپ کے ساتھ ضرور اسلام آباد جاؤں گی۔لیکن امی نہیں مانتی۔میرے کافی اصرار پر راضی ہوگئیں۔آخر میں بھی امی کے ساتھ چلی گئی۔وہاں گئی تو میں نے دیکھا ایک بہت خوبصورت بنگلہ ہے جس کے وسط میں ایک حوض ہے جس کا پانی انتہائی صاف و شفاف ہے۔اس کے چاروں طرف بہت خوبصورت لکڑی کی موٹی تہ لگی ہوئی تھی۔وہاں ایک ملازم امی سے کہنے لگا کہ آپ پہلے اسی تالاب پر آتے تھے؟ امی مجھے اور اس ملازم کو کہنے لگیں ہاں ہم ادھر بہت آتے تھے۔لیکن ایک دن ایسا ہوا کہ ہمیں آرڈر آئے کہ آئندہ ہم اس پر نہ آئیں کیونکہ تالاب کے گرد جو لکڑی لگی ہوئی ہے اس کا معائنہ کرنے پر پتہ چلا ہے کہ اس کو دیمک کافی عرصہ سے لگی ہوئی تھی جس نے اب اسے بالکل ناکارہ بنادیا ہے اس لئے اس تالاب پر آنا انتہائی خطرناک ہے اس لئے جب تک دوسری لکڑی نہیں لگ جاتی اس پر کوئی نہ آئے۔اس کے بعد امی کہنے لگیں انہوں نے اس لکڑی کو بدل کر اس کی جگہ یہ کٹڑی لگادی ہے اور اب ہمیں ادھر آنے کی اجازت ہے۔یہ خواب دیکھ کر میری آنکھ کھل گئی۔مجھے سخت حیرت ہو رہی تھی کہ اس کی تعبیر کیا ہوسکتی ہے۔انگلستان کے ڈاکٹر صاحب نے جب حضور کا معائنہ کر کے بتایا کہ ان کو یہ تکلیف پرانی ہے تو میرا ذہن ایک دم دیمک اور پرانی لکڑی کی طرف چلا گیا۔لیکن پھر میں اپنے خدا کے آگے