جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 419 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 419

خلافت رابعه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے -ii 419 جس دن حضرت خلیفتہ امسح الثاث ( رحم اللہ ) کی وفات ہوئی اس دن یہ اہم خواب دیکھی جو رات تقریباً پون بجے سے ڈیڑھ بجے تک دیکھی ہوگی۔اور اس کے تھوڑی ہی دیر بعد یہ خواب حقیقت بن گئی تھی۔وہ یہ ہے۔کوئی گھر ہے جس کی تیسری منزل پر میں دو پیارے سے بچوں کے ساتھ کھڑا ہوں کہ نیچے آنے کے لئے زینہ کے قریب آتا ہوں (یہ میں اختصار کے ساتھ لکھ رہا ہوں کیونکہ جو نظارہ میں نے دیکھا ہے وہ کچھ یاد بھی نہیں اور جو یاد ہے وہ یہی ہے ) تو نیچے سے مکرم شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈوکیٹ امیر ضلع فیصل آباد کے صاحبزادے مکرم طاہر احمد صاحب کہتے ہیں کہ بھٹی اس طرف سے نہ آنا یہ زینہ ٹوٹ چکا ہے تم چند منٹ یا لمحے وہیں رکے رہو۔بعد ازاں اوپر دو دروازے ہیں کہ ایک دروازہ کھول کر آپ یہ کہتے ہیں کہ بھئی اس طرف سے آجاؤ۔اس طرف کشادہ جگہ ہے اور یوں لگتا ہے جیسا کہ زمین ہو اور ہم کسی منزل کی چھت پر نہیں بلکہ کھلی اور ہموار جگہ پر ہیں۔تھوڑی دیر بعد گھر کا دروازہ کھٹکا اور ساتھ اطلاع ملی کہ حضور اپنی خلافت کا وقت ختم کرتے ہوئے اپنے رب دو جہاں کے حضور رحلت فرما گئے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ 0 اور اس طرح خواب اول کی طرف لوٹتے ہوئے کہ پولیس کے سپاہی اگر ڈاکٹر بھی ہوں تو وہ بھی اس قضائے الہی سے اپنے پیارے محبوب کو ڈھونڈ کے واپس نہ لا سکے اور آخر والی خواب میں خلافت کی یہ تیسری سیڑھی جو بیٹھ گئی ہے۔اس سے حضرت خلیفہ اسیح الثالث ( رحمہ اللہ ) کی وفات مراد ہے۔اور خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے اپنی جناب سے رحمت کا سایہ فرماتے ہوئے مکرم مرزا طاہر احمد صاحب کو ہمارے لیے نئے رستے کا باب کھول کر اس جانب متوجہ فرمایا اور اب ہم کشادہ زمین پر چلنے لگے ہیں اور طاہر احمد جو خواب میں دکھلائے گئے اس سے حضرت خلیفہ المسیح الرابع کے نام کی طرف اشارہ تھا۔