جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 418 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 418

خلافت رابعه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے -i ۹۳ مکرم شیخ منیر احمد صاحب دار الرحمت وسطی ربوه 418 حضرت خلیفہ امسح الثالث ( رحمہ اللہ ) جب عارضہ قلب سے دو چار ہوئے تو مجھے یہ خواب آیا جو میں نے دو دن بعد مولانا دوست محمد صاحب شاہد کو سنایا تھا۔جیسا کہ ہماری تربیتی کلاس زیر نگرانی مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ ہوتی ہے اس میں عاجز بھی طالب علم کی حیثیت سے شریک ہے چودہ دن تو لگا تار تعلیم حاصل کرنے کے بعد پندرھویں دن مجھے اسٹیشن ربوہ پر چند دوستوں نے تو گفتگو کر لیا ہے جب فارغ ہو کر کلاس پر جاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث ( رحمہ اللہ ) اپنا خطاب مکمل کرنے کے بعد واپس باہر تشریف لا رہے ہیں اور آپ کے ساتھ کوئی باڈی گارڈ بھی نہیں۔جب باہر آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ گاڑی کہاں ہے گاڑی لاؤ۔چند آدمی گاڑی کی تلاش ادھر ادھر کرتے ہیں مگر گاڑی ڈرائیور کہیں لے جاتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ جاؤ گاڑی لے آؤ۔اتنے میں آپ ایک تختے پر چڑھتے ہیں تو وہ چر چراتا ہے اس تختے کے ایک جانب سیڑھیاں ہیں آپ ان سیڑھیوں کے ذریعے اوپر جاتے ہیں یہ سیڑھیاں بوسیدہ ہیں آپ جوں جوں اوپر کی جانب جاتے ہیں نیچے کھڑا آپ کے لیے دعا کرتا ہوں کہ یا رب العالمین ان سیٹرھیوں سے توریت کی طرح سیمنٹ میرے سر پر گر رہا ہے تو اپنی جناب سے حفاظت فرما۔اور آپ چھت پر تشریف لے جاتے ہیں۔اتنے میں آواز آتی ہے کہ گاڑی آگئی ہے حضور کو اطلاع کرو۔آپ کو اطلاع دینے کے لیے لوگ دوڑتے ہیں اور دوسری عمارت کی چھت پر چند سپاہی بندوقیں پکڑے کھڑے ہیں پس سبھی طرف ڈھونڈا مگر آپ نہیں ملے۔اسی اثناء میں میری آنکھ کھل جاتی ہے تو خاکسار بہت پریشان ہوتا ہے۔بہر حال اس پر صدقہ وغیرہ ادا کرتا ہوں۔