جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 321
خلافت رابعه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 321 ان کے ساتھ ان کا ایک بچہ لیٹا ہوا ہے۔اب وہ بچہ جو حضرت مصلح موعود کے ذہن میں موجود نہیں تھا، اچانک اس طرح دکھایا جانا خود اپنی ذات میں ایک اعجازی رنگ رکھتا ہے اور پھر اس سے دلچسپ بات یہ ہے کہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے بچے کو اٹھایا تو وہ لڑکا بن گیا تو اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ موجود بچوں کی طرف اشارہ کرنا مراد نہیں تھا بلکہ کسی ایسے بچے کی طرف اشارہ کرنا مراد تھی جو خدا کی تقدیر میں دین کے کام آنے والا تھا اور اس کا لڑکا بن جانا بتا تا ہے کہ بعد میں اس میں کوئی تبدیلی پیدا ہوئی تھی۔دوسری بہت دلچسپ بات جو دوبارہ پڑھنے سے سامنے آئی وہ یہ تھی کہ جو خطرہ تھا وہ فوجیوں کی طرف سے تھا اور ان فوجیوں کی تعیین نہیں ہے کہ کون ہیں۔دیکھتے ہیں کہ میں اچانک گھر سے باہر دیکھتا ہوں تو کچھ فوجی افسر گو یا بد نیتی کے ساتھ وہاں کھڑے ہیں اور مجھے ان کی طرف سے خطرہ محسوس ہوتا ہے تو میں زمین پر اتر کر جانے کے بجائے جس طرح پہاڑوں پر گھر بنے ہوتے ہیں کہ اوپر کی منزل کا بھی بالا بالا تعلق ہوتا ہے۔میں بالائی رستے سے نکل گیا ہوں اور یہ میری ہجرت کے عین مطابق ہے یعنی بالائی رستے سے یہاں فضائی رستے کے ذریعے رخصت ہونا اور خاموشی سے رخصت ہونا مراد ہے۔۔(خطبہ جمعہ 15 /جون 1990ء) ہجرت کے بعد قادیان واپسی کی پیشگوئی کے مصداق بھی عارضی طور پر حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ ٹھہرے۔حضور رحمہ اللہ نے ایک دوست کی رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔ایک دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا کہ نہر کے پل پر جارہے ہیں ،لمبا کوٹ عمامہ اور گر گابی پہنی ہوئی ہے اور ہاتھ میں سوئی ہے۔حضور نے اس دوست کے سلام کا