جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 258
خلافت ثالثه : مبشر رویا،خواہیں اور الہی اشارے 258 ہیں۔آپس میں خلافت کے متعلق بحث کر رہے ہیں۔پھر میں نے دیکھا کہ حضرت خلیفہ لمسیح الثانی بھی اس جگہ تشریف لائے ہیں۔اور انہوں نے حضرت میاں ناصر احمد صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا ہے اور خاموشی سے اس طرف چل پڑے ہیں جہاں اب مسجد مبارک ہے۔اس پر جو لوگ آپس میں بحث کر رہے ہیں خاموشی سے حضور کے پیچھے پیچھے چل پڑے ہیں اور زور زور سے نعرے بلند کر رہے ہیں۔اور باقی چند خاموشی سے دوسری طرف چلے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مکرم رحمت علی صاحب قریشی کر تو۔نارنگ منڈی ضلع شیخوپورہ 1955 ء میں مجھے ایک رویا ہوا۔کہ میں ایک شہری آبادی میں ایک بازار میں ایک دوکان کے تختے پر کھڑا ہوں۔اور بازار کی شکل مشرق سے مغرب کی طرف ہے اور ایک سڑک اس بازار میں شمال کی طرف سے آکر ملتی ہے۔جس دوکان پر میں کھڑا ہوں اس دوکان کا دروازہ شمال کی طرف ہے۔اس شہر کی تمام دوکانیں بالکل بند ہیں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک پالکی میں حضرت اقدس خلیفتہ المسیح الثانی سوار ہیں، اور اس پالکی کو آدمی اٹھائے ہوئے مغرب کی طرف لے جارہے ہیں اور آگے آگے حضرت مرزا ناصر احمد صاحب سر پر تاج جو کہ سونے کا بنا ہوا ہے، پہنے ہوئے پرواز کر رہے ہیں۔پر نہایت چمکیلے اور پروں کی شکل جیسی کہ آج کل مصوروں نے براق کی تجویز کی ہے ویسی ہے اور میں دیکھ کر آوازیں دے رہا ہوں کہ آوالو گو اخر یہ وقت کی زیارت کرو۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور دیکھا کہ وقت نماز تہجد کا ہے اور میں نے عین وہی نظارہ تابوت حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے