جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 259
خلافت ثالثه : مبشر رویا ، خواہیں اور الہی اشارے گذرنے کا دیکھا جب میں بہشتی مقبرہ میں پہنچا۔259 ۲۶ مکرم سید مسعود مبارک شاہ صاحب ابن سید محمود اللہ شاہ مرحوم۔ربوہ میں خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ نو دس سال ہوئے میں نے ایک خواب دیکھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی وفات پاگئے ہیں۔ایک میدان میں جماعت کے بڑے بڑے احباب زمین پر بیٹھے ہیں۔اُن میں چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب بھی ہیں۔ان کے ساتھ ہی میں بھی بیٹھا ہوں۔ہم سب حضور کی وفات کے غم سے سخت نڈھال ہیں اور ساتھ ہی یہ غم ہے کہ اب جماعت کا کیا بنے گا۔اتنے میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب تشریف لاتے ہیں اور مجمع کے سامنے کھڑے ہو کر تقریر فرما نا شروع کرتے ہیں۔ان کے پیچھے غلام احمد پٹھان جو پہرہ دار ہے صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب کو گود میں اٹھائے جن کی عمر دو تین سال کی لگتی ہے کھڑا ہے۔تقریر کے دوران میں ہم سب لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے نہایت عمدگی کے ساتھ موضوع کو نبھایا ہے۔تمام لوگوں کے چہروں سے گھبراہٹ کی بجائے اطمینان کے آثار پائے جاتے ہیں۔اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔