جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 207 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 207

خلافت ثانیه : مبشر رویا ، خوا ہیں اور الہی اشارے 207 اور اس میں لکھا کہ اگر صاحبزادہ صاحب قسم کھا کر یہ بیان کر دیں کہ ان کو خدا نے خلیفہ بنایا ہے۔تو مجھ پر یعنی خواجہ صاحب پر حضور کی مخالفت حرام ہوگی ، اور کہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ وہ اس وجود کی مخالفت کریں کم جو اس مقدس وجود کے جگر کا ٹکڑا ہے۔جوان کا آقا اور مطاع تھا (مفہوم) اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے غالباً القول الفصل میں قسم کھا کر بتایا کہ ہاں مجھے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تو خلیفہ ہے۔مگر افسوس خواجہ صاحب پھر اپنے اقرار سے پھر گئے ، اور پیش از پیش مخالفت شروع کردی۔پس میرے لئے تو کسی مزید دلیل کی ضرورت نہیں۔یہاں تو محمد ہست برہان محمد والا معاملہ ہے۔جس کو خدا تعالیٰ نے محمود کہا ہے وہی محمود ہے۔میں برا ہوں بھلا ہوں کچھ بھی ہوں۔مگر محمود کا غلام ہوں اور اسی پر خاتمہ چاہتا ہوں۔اللھم آمین ثم آمین" ( الفضل 23 مئی 1957ء)۔۔۔۔۔۔۔۔۶۴ مکرم قاضی شاد بخت صاحب کی اہلیہ کی رؤیا آپ کی اہلیہ محترمہ سیدہ خدیجہ خاتون صاحبه دختر سیدا کرام حسین صاحب (سکنه علی! کھیڑہ) قاضی صاحب کے نانا کے زیر اثر پورے شیعہ خیالات کی تھیں۔اور محرم پر سختی سے رسم ورواج کی پابندی کرتی تھیں۔اور احمدیت کی مخالفت کا ایسا رنگ رکھتی تھیں، کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جس کمرہ میں تصویر تھی اس کمرہ میں داخل ہونے سے ان کو نفرت تھی۔ایک دفعہ انہوں نے 1933ء کے لگ بھگ خواب دیکھا کہ قاضی صاحب ترکی ٹوپی اور اچھا