جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 206 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 206

خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 206 حضور کی عمر آغاز نو جوانی کی ہے۔یعنی جب مونچھیں پھوٹنے لگتی ہیں۔میں حضور کو دیکھ کر بے تابانہ آرہا ہوں۔اور پکارتا ہوں کہ مولوی رحمت اللہ صاحب نے تو پہلے ہی فیصلہ کیا تھا کہ خلیفہ حضور ہی ہوں گے۔میں نے حضور سے معانقہ کیا ہے۔حضور وہاں چوبارہ میں کچھ وقت بیٹھے رہے ہیں اور ہم باتیں کرتے رہے ہیں۔پھر وہاں سے اٹھ کر ہم انہی چوہدری شرف الدین صاحب کے کچے مکان کے پرنالے کے نیچے دیوار کے ساتھ کھڑے ہو گئے ( یہ کچا مکان میرے بھائی کے مکان کے قریب ہے۔اس میں کبھی حضرت حافظ روشن علی صاحب مرحوم رہا کرتے تھے ) اب میں نے دیکھا کہ ہمارے سامنے طوفان ہی طوفان ہے۔یعنی سیلاب کا پانی ہے اور دور ایک کشتی آرہی ہے اس میں خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم ہیں اور ایک شخص اور کشتی میں بیٹھا ہے ( غالبا وہ حضرت حامد شاہ صاحب مرحوم سیالکوٹی تھے۔) میں نے یہ دیکھ کر حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور وہ خواجہ کمال الدین صاحب آگئے۔حضور نے فرمایا! خواجہ کمال الدین صاحب تو آگئے مگر فیصلہ تو نہ ہوا۔اس پر میری آنکھ کھل گئی۔میں نے صبح اٹھ کر بیعت کا خط لکھ دیا۔اس خواب کی تعبیر میں نے یہ کی کہ حضور کا خلافت پر فائز ہونا رحمت الہی سے پہلے سے مقدر تھا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی میں صاف الفاظ ہیں۔کہ " ایک رحمت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے اور مفتی فضل الرحمن کا ساتھ ہونا یہ بتا تا ہے۔کہ یہ فضل و رحمانیت کے ماتحت ہے۔پھر نو جوانی کے آغاز میں دکھلایا جانا یہ ظاہر کرنا ہے کہ تم تو کہتے ہوا بھی یہ بچہ ہے۔لیکن تم کو یادر ہے کہ بیٹی کے متعلق ہم نے یہی کہا تھا آتَيْنَاهُ حُكْمًا صَبيًّا مجھ پر صداقت کھل گئی اور میں نے تسلیم کر لیا۔اب خواجہ کمال الدین صاحب والا حصہ تعبیر طلب رہ گیا تھا۔اس کی حقیقت بعد میں ظاہر ہوئی۔جب خواجہ صاحب ولایت سے تشریف لائے ، اور انہوں نے ایک رسالہ سلسلہ کے اندرونی اختلافات اور اس کے اسباب نام کا لکھا۔