جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 208 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 208

خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 208 لباس پہنے ایک کرسی پر بیٹھے ہیں۔کسی نے دروازہ پر دستک دی اور ایک سنہری حروف سے نوشتہ خط دیا۔سیدہ صاحبہ نے کہا کہ بہت خوش نما ہے۔میں بھی دیکھوں کیا ہے۔دیکھا تو اس پر مرقوم تھا۔پہلا خلیفہ جبریل۔دوسرا خلیفہ محمود قاضی صاحب نے کہا کہ آپ بیعت کر لیں۔کیونکہ جماعت احمدیہ کے اس وقت خلیفہ حضرت محمود ہیں۔وہ اس سے متاثر ہوئیں۔کیونکہ وہ حضور کے متعلق واقفیت نہیں رکھتی تھیں۔اور بیعت کا خط لکھ دیا۔اور پھر قاضی صاحب کے بتانے پر مشرکانہ رسوم ترک کر کے تائب ہوئیں ،اور سمجھ لیا یہ بات غلط ہے کہ ان رسوم کی عدم اتباع سے سال بھر خاندان میں موت واقع ہو جاتی ہے۔انہوں نے (بیت الذکر) ہالینڈ کی تعمیر کے لئے اپنا سارا زیور دے دیا جو اس وقت ساٹھ ستر روپے کا تھا۔اور وصیت کر دی اور بتاریخ 16/ مارچ 1957ء بعمر 65 سال فوت ہوئیں۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ان کا جنازہ غائب پڑھاتے ہوئے فرمایا۔" قاضی شاد بخت صاحب پرانے احمدی ہیں، اور ایک مشہور خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔اپنی قوم پر بھی ان کا بڑا اثر ہے۔جب ملکانہ میں ارتداد ہوا، اور ہندوؤں میں تبلیغ کی گئی۔تو اپنی قوم کے اثر کی وجہ سے ملکانوں پر ان کا بڑا اثر پڑا تھا۔" الفضل 19 جون 1957ء)