جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 205 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 205

خلافت ثانیه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے 205 کے شاہد ہیں۔لیکن ان تمام تعلقات محبت کے باوجود میں نے حضور کی بیعت خلافت خدائے علیم سے پوچھ کر قبول کی ہے۔جس کی تفصیل اس لئے لکھ دیتا ہوں کہ شائد کسی روح کو فائدہ پہنچ جائے۔مجھے حضرت خلیفہ مسیح الاول (اللہ آپ سے راضی ہو ) کی وفات کی خبر سرگودھا میں میرے عزیز دوست حضرت مولوی رحمت اللہ صاحب مرحوم سکنہ چک نمبر 78 جنوبی نے دی۔جبکہ وہ میلہ اسپاں پر سرگودہا آئے ہوئے تھے ، اور میں اپنی رخصت ختم کر کے جیک آباد چھاؤنی جا رہا تھا۔اس موقعہ پر انہوں نے فرمایا کہ اب خلیفہ حضرت محمود ہوں گے اور انہوں نے حضور کی صفات گنائے۔کہ جرات ، دلیری ، مہمان نوازی اور تقویٰ وغیرہ وغیرہ میں اگر کوئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدم بقدم نقش قدم پر چلا ہے تو یہی وجود مبارک ہے۔خیر میں جیک آباد پہنچا اور اگلے دن اخبار الفضل سے معلوم ہوا کہ خلیفہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد ہوئے ہیں۔میں نے دعا کی کہ یا الہی مجھے صاحبزادہ صاحب سے محبت تو ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ میں محبت کے رنگ میں یہ جاؤں اور تیرے نزدیک حق کچھ اور ہو تو کچھ کر مفرمائی کر کے مجھے خود بتلا اور میری راہنمائی فرما۔اسی رات مجھے ایک خواب آئی جو صبح تک مجھے قطعا یاد نہ رہی۔پھر شب کو میں نے دعا کی کہ الہی مجھے ایسی خواب سے کیا فائدہ جو مجھے یاد ہی نہ رہے، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل بے پایاں سے مندرجہ ذیل روی دکھائی۔میں نے دیکھا کہ میں چوہدری شرف الدین صاحب مرحوم کے چوبارہ میں ہوں۔چوہدری شرف دین صاحب مرحوم میاں افضل حسین صاحب وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کے نانا تھے ) اور وقت غالبا دو پہر کا ہے اور آسمان پر ابر ہے۔اور ہلکی پھوہار پڑ رہی ہے، کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی مفتی فضل الرحمن صاحب مرحوم کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں حضور کے پاس جہاں تک مجھے یاد ہے۔ایک چھتری بھی ہے، اور حضور نے سرمئی رنگ کا کوٹ پہنا ہوا ہے۔اور