جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 175
خلافت ثانیه : مبشر رویا ، خوا ہیں اور الہی اشارے 175 میں نے اپنے آپ کو خواب میں قادیان ( بیت ) المبارک کے اوپر دیکھا۔( بیت ) کے ساتھ بالا خانہ کے پاس کھڑا ہوں۔دیکھا کہ مشرق کی طرف سے ایک دمدار ستارہ نکلا ہے۔جس کی روشنی لاثانی تھی اور اس کی کرنیں نہایت روشن تھیں اور نہایت خوبصورت نظر آتی تھیں۔تمام لوگ مکانوں پر کھڑے ہو کر دیکھ رہے تھے۔میں نے بلند آواز سے کہا کہ لو گوامام مہدی کی نشانی ہے۔میرے دیکھتے دیکھتے وہ ستارہ ( بیت ) المبارک پر آ گیا اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بھی میرے پاس آکر کھڑے ہو گئے۔وہ ستارہ ہمارے سروں پر آ گیا۔اس وقت حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا چہرہ مبارک نہایت خوبصورت نظر آتا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہم نور میں لیٹے گئے ہیں اور ہر طرف نور ہی نور تھا۔اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔" ( تاریخ تحریر 14 / جون 1939) بشارات رحمانیہ جلد 1 صفحہ 343-342) ☆۔۔۔۔۔۔۔۴۲۔مکرم جناب شیخ محمد افضل صاحب قریشی سابق سب انسپکٹر پولیس ریاست پٹیالہ انڈیا "1914ء کا ذکر ہے کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ امسیح اول بیمار ہو گئے اور آئندہ زندگی کی امید منقطع ہوگئی تو جماعت احمدیہ پٹیالہ کے نام بذریعہ چٹھی یا تار قادیان سے اطلاع آئی کہ جماعت میں سے دو اصحاب کو جلد قادیان روانہ کر دیا جاوے۔چنانچہ یہاں سے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب جو اس وقت حضور خلیفہ مسیح ثانی کے معالج اور ہجرت کر کے قادیان