جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 140
خلافت ثانیه : مبشر رویا، خوا ہیں اور الہی اشارے ا۔مکرم منشی فاضل فتح علی صاحب آف دوالمیال ضلع چکوال کی رویا حضرت خلیفہ اسیح کی حضرت علی سے مماثلت 140 "11 یا 12 ء میں حضرت خلیفہ اول کے عہد خلافت میں میں نے ایک خواب دیکھا کہ میں ایک عالی شان مسجد میں گیا ہوں جس کے صحن میں ایک چھوٹا سا تالاب ہے۔وہاں پہنچتے ہی مجھے ایک شخص نے کہا کہ مسجد کی دیوار کے اوپر جولکھا ہوا ہے وہ پڑھ لو۔میں نے دیکھا تو جلی قلم کے ساتھ لکھا تھا چراغ و مسجد و محراب و منبر ابو بکر و عمر عثمان و حیدر اس نے کہا سمجھ لیا ؟ میں نے کہا ہاں۔اس نے وضو کے لئے کہا کہ یہاں سے نیچے سیٹرھیوں سے اتر جاؤ۔میں نیچے سے وضو کر کے آ گیا تو یوں معلوم ہوا کہ وہ مسجد اقصیٰ ہے۔جو قادیان میں ہے۔اسی اثناء میں لوگ جمع ہونے لگے اور کہا کہ حضرت عمر مسجد میں تشریف لائے ہیں میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ہو بہو حضرت خلیفہ اول کی شکل کے تھے۔میں نے کہا ! یہ تو حضرت مولوی صاحب ہیں۔لوگوں نے کہا کہ یہ حضرت عمرؓ ہیں۔وہ آکر بیٹھ گئے اور بہت سے لوگ حلقہ بنا کر ان کے پاس بیٹھ گئے۔پھر لوگوں نے کہا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ تشریف لائے ہیں۔میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ہو بہو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی شکل اور خدو خال میں ہیں۔سفید کپڑے پہنے ہیں پھر میں کہتا ہوں کہ یہ تو حضرت صاحبزادہ صاحب ہیں لوگ کہتے ہیں کہ یہی حضرت علی ہیں پھر میں حضرت علی کرم اللہ وجہ جو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی شکل و شبہات میں تھے ان کے پاس بیٹھ گیا۔تاکہ ان کی مجلس سے کچھ فیض اٹھاؤں دو تین آدمی دوالمیال کے بھی اس مجلس میں دیکھے ایک تو بالکل دور بیٹھا تھا اور وہ غیر احمدی تھا مگر دو احمدی بھائی جن میں سے ایک بالکل میرے پاس تھا بیٹھے تھے۔خواب میں میراساتھی مجھ کو کہتا ہے کہ حضور کے ماتھے سے جونور