جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 139 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 139

خلافت ثانیه : مبشر رویا ، خوا ہیں اور الہی اشارے 139 زیارت کرلو۔جہاں آپ کی چار پائی دیکھی تھی بعد میں وہاں میں نے ایک نکا لگایا تھا جس سے سب گھر والوں نے پاکستان بننے تک کافی فائدہ اُٹھایا۔میرے آقا!1892ء غالبا فروری میں عبداللہ صاحب ٹونکی نے لاہور میں ایک اشتہار دیا تھا کہ جب مرزا صاحب لاہور میں آئیں گے میں ان کے ساتھ مباحثہ کروں گا۔میں ان دنوں میں طالب علم تھا۔میرے استاد مولوی حبیب الرحمن سہانپوری تھے جن کے والد مولوی احمد علی صاحب ہیں جنہوں نے مشکوۃ شریف میں حاشیہ لکھا ہوا ہے۔مجھے کہا تم ہوشیار ہو۔آج مرزا صاحب سے ٹکر لو۔مجھے اپنے علم میں ناز اور پورا یقین تھا ایک نوجوان کو ہمراہ لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔لیکن اور کوئی اعلان یا اشتہار دینے والوں میں سے نہ تھا۔حضور کی زیارت کرتے ہی ایسا رعب پڑا کہ سکتہ کی حالت ہوگئی۔میں نے دوسرے طالب علم کو کہا کہ کوئی سوال کرو۔اس نے اشارہ کیا کہ مجھ میں جرات نہیں ہے۔میں نے سنبھلتے ہوئے چند ایک اعتراض حضور کی خدمت میں پیش کئے۔جن کا ٹھوس اور تسلی بخش جواب مل گیا۔حضور کی شان اور جلالی وقار اور زیارت ہونے پر غرور اور تکبر حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے پہاڑ سے ٹکڑا کر ریزہ ریزہ ہو گیا۔آپ کی بیعت میں شامل ہو کر ہمیشہ آپ کا گرویدہ ہو گیا۔میرے پیارے آقا میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان کو آنکھوں سے دیکھا ہوا ہے آپ حضور د کی پیشگوئی کے مصداق برحق خلیفتہ المسیح الثانی و الصلح الموعود ہیں۔ہر وہ شخص جو آپ کی مخالفت کرے گا یقینا نا کام رہے گا۔حضور کی غلامی میں زندگی اور موت کا متمنی ہوں۔اللہ تعالیٰ حضور کو صحت و تندرستی و زندگی در از عطا فرما کر سلسلہ عالیہ احمدیہ کا حافظ و ناصر ہو۔اللهم آمین