جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 102
خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے 102 کرے کے نام سے۔اور جب ہم ان دونوں افسروں کے عہدوں کو دیکھتے ہیں تو جس سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وفات پائی تھی اسی سال لارڈ کچز ہندوستان سے رخصت ہوئے تھے اور سر اومور کرے ہندوستان سے روانہ ہوئے ہیں اسی سال اور اسی مہینہ یعنی مارچ 1914ء میں حضرت خلیفة اسبح فوت ہو گئے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اس کام پر مقرر فرمایا۔اس رؤیا میں یہ جو دکھایا گیا ہے کہ چارج میں ایک نقص ہے اور میں اس کے لینے سے انکار کرتا ہوں تو وہ ان چند آدمیوں کی طرف اشارہ تھا کہ جنہوں نے اس وقت فساد کھڑا کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس رویاء کے ذریعہ سے حضرت مولوی صاحب پر سے یہ اعتراض دور کیا ہے جو بعض لوگ آپ پر کرتے ہیں کہ اگر حضرت مولوی صاحب اپنے زمانہ میں ان لوگوں کے اندرونہ سے لوگوں کو علی الا علان آگاہ کر دیتے اور اشارات پر ہی بات نہ رکھتے یا جماعت سے خارج کر دیتے تو آج یہ فتنہ نہ ہوتا اور مولوی صاحب کی طرف سے قبل از وقت یہ جواب دے دیا کہ یہ نقص میرے زمانہ کا نہیں بلکہ پہلے کا ہی ہے اور یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہی بگڑ چکے تھے۔ان کے بگڑنے میں میرے کسی سلوک کا دخل نہیں مجھ سے پہلے ہی ایسے تھے۔" رؤیا وکشوف سید نامحمودصفحه 22-21) ا۔آسمان پر بڑے بڑے تغیرات تمہارے لئے اچھے ہوں گے: نومبر 1912ء کی ایک رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں۔" خدا تعالیٰ نے مجھے خود ایک رؤیاء کے ذریعہ بتایا کہ آسمان سے سخت گرج کی آواز آ رہی ہے اور ایسا شور ہے جیسے تو پوں کے متواتر چلنے سے پیدا ہوتا ہے اور سخت تاریکی چھائی ہوئی