جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے

by Other Authors

Page 101 of 736

جماعت احمدیہ میں قیام خلافت کے بارہ میں الہامات، کشوف و رؤیا اور الٰہی اشارے — Page 101

خلافت ثانيه : مبشر رویا، خواہیں اور الہی اشارے نہیں سنایا تھا اب سناتا ہوں وہ پیالہ جب مجھے پلایا گیا تو معاً میری زبان سے نکلا۔" اب میری امت بھی کبھی گمراہ نہ ہوگی " 101 میری امت کوئی نہیں تم میرے بھائی ہو۔مگر اسی نسبت سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے حضرت مسیح موعود کو ہے یہ فقرے نکلے جس کام کو سیح موعود نے جاری کیا اپنے موقع پر وہ امانت میرے سپرد ہوئی ہے۔" (الفضل21 / مارچ1914ء) افواج کا کمانڈرانچیف مقرر ہونا: 1911ء/ 1910ء کی بات ہے جب آپ نے درج ذیل رؤیا دیکھا۔" میں نے دیکھا کہ میں اور حافظ روشن علی صاحب ایک جگہ بیٹھے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجھے گورنمنٹ برطانیہ نے افواج کا کمانڈر انچیف مقرر فرمایا ہے اور میں سراومور کرے سابق کمانڈرانچیف افواج ہند کے بعد مقرر ہوا ہوں اور ان کی طرف سے حافظ صاحب مجھے عہدہ کا چارج دے رہے ہیں چارج لیتے لیتے ایک امر پر میں نے کہا کہ فلاں چیز میں تو نقص ہے میں چارج میں کیونکر لے لوں؟ میں نے یہ بات کہی ہی تھی کہ نیچے چھت پھٹی (ہم چھت پر تھے ) اور حضرت خلیفہ المسیح اول اس میں سے برآمد ہوئے اور میں خیال کرتا ہوں کہ آپ سرا مور کرے کمانڈر انچیف افواج ہند ہیں۔آپ نے فرمایا! کہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں بلکہ لارڈ کچنر سے مجھے یہ چیز اسی طرح ملی تھی۔۔۔۔۔افواج کی کمانڈ سے مراد جماعت کی سرداری ہے۔۔۔۔۔اس رویاء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لارڈ کچنر کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے اور حضرت خلیفہ اول کو سر اومور