رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 63
63 105 1921 1920 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں لنڈن میں ہوں اور ایک ایسے جلسہ میں جس میں پارلیمنٹ کے بڑے بڑے ممبر اور دوسرے بڑے آدمی ہیں ایک دعوتی قسم کا جلسہ ہے۔اس میں میں بھی شامل ہوں مسٹرلائڈ جارج سابق وزیر اعظم اس میں تقریر کر رہے ہیں۔تقریر کرتے کرتے ان کی حالت بدل گئی اور انہوں نے ہال میں ٹہلنا شروع کر دیا اور ایسی گھبراہٹ ان کی حرکات سے ظاہر ہوئی کہ سب لوگوں نے یہ سمجھا کہ ان کو جنون ہو گیا ہے۔سب لوگ قطاریں باندھ کر کھڑے ہو گئے ہیں اور وہ جلد جلد ادھر سے ادھر ٹہلتے ہیں۔اتنے میں لارڈ کرزن صاحب نے آگے بڑھ کر ان کے کان میں کچھ کہا اور وہ ٹھہر گئے اور آہستہ سے لارڈ کرزن صاحب کو کچھ کہا انہوں نے باقی لوگوں سے جو ان کے گرد تھے وہی بات کی اور سب لوگ دوڑ کر ہال کے دروازے کی طرف چلے گئے اور باہر سڑک کی مشرقی جانب بھاگنا شروع کیا۔ان کے اس طریق پر مجھے اور بھی حیرت ہوئی۔قاضی عبد اللہ صاحب میرے پاس کھڑے ہیں میں نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے کیا کہا ہے اور یہ لوگ دروازے کی طرف کیوں دوڑے اور کیا دیکھتے ہیں۔قاضی صاحب نے مجھے جواب دیا کہ مسٹر لائڈ جارج نے لارڈ کرزن سے یہ کہا ہے کہ میں پاگل نہیں ہوں بلکہ میں اس وجہ سے ٹہل رہا ہوں کہ مجھے ابھی خبر آئی ہے کہ مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ کی فوجیں عیسائی لشکر کو دباتی چلی آتی ہیں اور مسیحی لشکر شکست کھا رہا ہے اور وہ ٹہلتے ٹہلتے اس جگہ کے قریب آگیا ہے اور یہ لوگ اس بات کو سن کر دروازے کی طرف اس لئے دوڑنے لگے کہ تا دیکھیں کہ لڑائی کا کیا حال ہے۔جب میں نے یہ بات ان سے سنی تو میں دل میں کہتا ہوں کہ ان کو اس قدر گھبراہٹ ہے اگر ان کو معلوم ہو کہ میں خود ان کے اندر موجود ہوں تو وہ مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کریں گے یہ خیال کرکے میں بھی دروازے کی طرف بڑھا جس طرح وہ لوگ دیکھنے کے لئے گئے ہیں اور وہاں سے خاموشی سے سڑک کی طرف نکل گیا اس پر میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 14۔جون 1924ء صفحہ 5