رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 64
64 106 30 جنوری 1921ء فرمایا : پرسوں ایک عجیب رویا دیکھی کہ گویا میں باہر سے آیا ہوں اور خیال کرتا ہوں کہ شملہ سے آیا ہوں یہ نہیں معلوم کہ ریل کی سواری ہے یا کوئی اور مگر وہ گاڑی گزر رہی ہے۔میں حیران ہوں کہ قادیان کی سڑک تو سچی ہے پھر اس پر یہ گاڑی کیسے چل رہی ہے۔میں نے جو نیچے نظر کی تو معلوم ہوا کہ بڑی چوڑی اور پختہ سڑک نیچے ہے۔حیران ہوں کہ کب یہ سڑک بن گئی۔جب آگے بڑھے تو دیکھا کہ بہت سی گاڑیاں جو کئی قسم کی ہیں چلی آرہی ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا جلسہ کے ایام ہیں جس گاڑی میں میں سوار ہوں وہ موٹر ہے۔یا کیا ہے۔جب میں آگے آیا تو بہت سی دکانیں نظر آئیں اور آگے شہر میں آیا تو بہت سے آدمی نظر آئے اور ایسا معلوم ہوا کہ بڑا چوڑا بازار ہے اور لوگ دکانوں سے نکل نکل کر کھڑے ہو رہے ہیں۔میری گاڑی بھی پاس ہی چلتی جاتی ہے۔اس کو روکتا ہوں کہ کہیں کوئی حادثہ نہ ہو جائے۔شہر بھی پختہ ہے اور ہجوم آہستہ آہستہ بڑھتا جاتا ہے اور میں سب کو سلام علیکم کہتا جاتا ہوں۔اور پھر بڑھتے بڑھتے ہم اس اپنے چوک میں آگئے لیکن اس کی موجودہ شکل نہیں بلکہ بہت بدل گئی ہوئی ہے۔اس جگہ ایک مکان کو ٹھی کی شکل کا بنا ہوا ہے اور اس کے آگے عمدہ اور خوبصورت صحن ہے اور مکان کے سامنے ایک وسیع برآمدہ ہے وہاں والدہ صاحبہ (حضرت اماں جان) اور ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب بھی ہیں۔میں نے وہاں پانی منگایا کہ وضو کروں کیونکہ عصر کا وقت معلوم ہوتا ہے اور پھر ذرا نظارہ بدلا اور ایسا معلوم ہوا کہ وہیں ایک شخص مخالفین کی نسبت سخت لفظ کہتا ہے۔میں اس کو کہتا ہوں کہ نرمی مد نظر رکھنی چاہئے اور پھر اس کو اپنا ایک واقعہ سناتا ہوں اور کہتا ہوں کہ دیکھو میرا تو ان لوگوں سے یہ سلوک ہے کہ میں نے ایک دفعہ دو مخالفوں کو دیکھا کہ وہ ایسی جگہ پر پڑے ہیں جو بہت ڈھلوان ہے اور خطرہ ہے کہ وہ ذراسی حرکت سے ایک عمیق غار میں جاگریں گے اور ان تک پہنچنے کا راستہ بھی خطرناک ہے اور گویا وہاں تک جانے میں نوے فیصد ہلاکت کا احتمال ہے مگر میں اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر وہاں گیا اور ان دونوں کو بچا لایا (رویا میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں آدمی پیغامی ہیں) جس وقت میں یہ واقعہ اس شخص کو سنا رہا تھا تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ جس جگہ کا میں نقشہ کھینچ رہا ہوں تو اس کا نظارہ اس کو ٹھی کے