رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 62

62 اور حرف ہے جو یاد نہیں رہا۔سوخد اتعالیٰ کے فضل سے حضور کی یہ رویا بعینہ پوری ہوئی لفافہ کی پشت پر ایک ٹکٹ چسپاں تھا جس پر لکھا ہوا تھا By Air Mall (یعنی بذریعہ ہوائی جہاز) اور خط لکھنے والے نے اپنے ہاتھ سے بھی یہی لکھا تھا۔الفضل 26 - ستمبر 1921ء صفحہ 2۔نیز دیکھیں۔ہستی باری تعالی صفحہ 74 1921 1920 104 فرمایا : 1920ء یا 1921 ء یا اس سے پہلے کی بات ہے کہ میں نے ایک رؤیا دیکھا۔کوئی مجھے کہتا ہے کہ قادیان میں بعض لوگ کمیونسٹ خیالات کے ہو گئے ہیں یہ سن کر مجھے خواب میں ہی تعجب پیدا ہوتا ہے اور میں اس منشاء کے ماتحت گھر سے باہر نکلتا ہوں کہ باہر جا کر دیکھوں کہ لوگوں کا رویہ میرے متعلق کس قسم کا ہے۔ان کا جو رویہ ہو گا اس سے میں اندازہ لگالوں گا کہ آیا سچ مچ ان کے خیالات کمیونسٹوں والے ہیں۔گویا میں سمجھتا ہوں کہ جن لوگوں کے اس قسم کے خیالات ہونگے باہر نکلنے پر میں ان کے خیالات کا ان کے رویہ سے اندازہ کرلوں گا۔چنانچہ میں مسجد مبارک کی شمالی جانب کی سیڑھیوں سے نیچے اترا ہوں اور مسجد اقصیٰ کی طرف چل پڑا ہوں۔رستہ میں کئی احمدی مجھے ملے ہیں اور بڑے ادب اور احترام سے مجھے ملتے ہیں اور ان کے اندر میرا ویسا ہی احترام ہے جیسے کہ پہلے پایا جاتا تھا مگر خواب میں میرے دل پر ان میں سے بعض کے اندرونہ کا عکس ظاہر ہو جاتا ہے۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان میں سے بعض کمیونسٹ خیالات رکھتے ہیں لیکن میرا ادب اور احترام اسی طرح کرتے ہیں جیسا کہ پہلے کرتے تھے اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔فرمایا۔کچھ عرصہ سے مختلف شہروں سے اس قسم کی اطلاعات آرہی ہیں کشمیر سے بھی اس قسم کی اطلاع آئی ہے کہ کمیونسٹ لوگوں کا ارادہ ہے کہ ہر مذ ہبی مرکز میں اپنی جماعت قائم کریں اور قادیان میں بھی اپنا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ان اطلاعات کو میں سرسری سمجھتا تھا مگر چند دن ہوئے گورنمنٹ کے ذریعہ سے بھی معلوم ہوا ہے کہ کمیونسٹوں کا ارادہ ہے کہ قادیان میں اپنا مرکز قائم کریں۔گویا اس اطلاع سے پہلی اطلاعات کی تصدیق ہو گئی۔الفضل 25 دسمبر 1944ء صفحہ 3