رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 601 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 601

601 ہے کہ الہی منشاء کے مطابق آسمان پر کوئی تحریک ہو رہی ہے۔الفضل 12۔فروری 1957ء صفحہ 3-2 طابق آسمان 634 22۔مارچ 1957ء فرمایا : رویا میں دیکھا کہ کوئی شخص بیٹھا ہے جس کو میں پہچانتا نہیں میں اسے ایک نسخہ دے رہا ہوں اور کہہ رہا ہوں کہ ڈاکٹر فضل نے یہ لکھ کر دیا ہے اور اس کے اوپر پیڈ پر اس کا مونو گراف بھی چھپا ہوا ہے جو نہایت اعلیٰ اور خوبصورت ہے یہ بھی عجیب بات ہے کہ ایک ڈاکٹر فضل کو میں جانتا ہوں میں کوئٹہ گیا تو وہاں گاؤٹ کا دورہ ہوا تو ڈاکٹروں نے کہا دانٹ دکھائیں جب ایک ڈاکٹر کو میں دانت دکھانے گیا تو اس کے مکان پر بورڈ لگا ہوا تھا کہ ”ڈاکٹر فضل " جب ہم فیس دینے لگے تو انہوں نے کہا کہ میں تو سید محمود اللہ شاہ صاحب کا شاگرد ہوں انہوں نے کہا انہوں نے مجھے بچوں کی طرح پالا ہے اس لئے میں آپ سے فیس نہیں لے سکتا تو میں ایک ڈاکٹر فضل کو جانتا ہوں جو ڈنٹسٹ تھا یعنی خواب میں جو میں نے دیکھا ڈاکٹر فضل نسخہ دیتا ہے در حقیقت اس کے معنے صحت کے آثار تھے چنانچہ میں نے یہ خواب پر سوں دیکھی تھی اس کے بعد کل بھی میں نے سارا دن کام کیا اور آج بھی کام کیا یہ وہ فضل ہے جو چل رہا ہے۔رپورٹ مجلس مشاورت 1957ء صفحہ 120 635 27/26۔مارچ 1957ء فرمایا : میں نے ایک ایسی رویا دیکھی ہے جو اپنے اندر ایک انداری پہلو رکھتی ہے لیکن ساتھ ہی اس کا انجام بخیر بھی معلوم ہوتا ہے میں نے دیکھا کہ میں قادیان میں ہوں اور اپنے گھر کے اس صحن میں ہوں جو مسجد مبارک کی اوپر والی چھت کے ساتھ ہے جہاں امتہ الحی مرحومہ رہا کرتی تھیں اور جس میں میں نے پہلے بھی ایک دفعہ رویا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا تھا اس وقت دروازہ کے سامنے ٹاٹ کا کپڑا لٹکا کر تا تھا رویا میں میں نے وہی ٹاٹ کا کپڑا لٹکا ہوا دیکھا مگر ٹاٹ کا وہ کپڑا ایک طرف کھسکا ہوا ہے میں نے دیکھا کچھ لوگ کھڑے ہیں جن کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ غیر احمدی مخالف ہیں اور ان کی نیت اچھی نہیں اس وقت میں نے ایسا محسوس کیا کہ گویا انہی غیر احمدیوں نے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر