رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 602
602 حملہ کیا تھایا میں نے یہ سمجھا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خلیفہ ہوں مجھے پر حملہ کیا تھا بہر حال ذہن میں یہی آتا ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر حملہ کیا تھا تب میں نے بلند آواز سے کہا کہ اے احمد یو! تمہاری نادانی اور غفلت میں یہ لوگ ایک دفعہ حملہ کر چکے ہیں اب تم کو پتہ ہے کہ یہ لوگ حملہ کی نیت سے آئے ہیں اگر اب تم ان لوگوں کے شر کو دور کرنے کے لئے آگے نہ آئے تو تم خدا تعالیٰ کی گرفت میں آؤ گے اور تمہیں سزا ملے گی کیونکہ پہلی دفعہ تو تمہیں اس لئے معاف کر دیا گیا کہ انہوں نے تمہاری غفلت اور نادانی میں حملہ کیا تھا مگر اب تم دیکھ رہے ہو کہ یہ لوگ تم پر حملہ کرنے کے لئے آئے ہیں اور بار بار میں اونچی آواز سے کہتا ہوں اے احمد یو آگے بڑھو۔اے احمد یو آگے بڑھو۔میرے اس کہنے پر چند غیر احمدی کود کر اندر آگئے اور ان میں سے ایک میرے پیچھے کی طرف چلا گیا اور دو میرے سامنے آگئے جو شخص میرے پیچھے کی طرف گیا اس نے اپنے ہاتھ میری کمر کے گرد ڈال لئے ہیں جسے پنجابی میں جپھا مارنا کہتے ہیں اس نے مجھے جپھا مارا ہوا ہے یعنی اس نے میری کمر کو بھی پکڑا ہوا ہے اور میرے ہاتھ بھی پکڑے ہوئے ہیں اس وقت میرے ہاتھ میں ایک پستول ہے ان لوگوں کے کو دنے سے پہلے میں نے پستول چلانے کی کوشش کی مگر لبلبی دبی نہیں میں نے اس کو دبانے کے لئے بہتیرا زور لگایا مگروہ نہیں دبی جب میرے زور لگانے کے باوجود بھی لبلبی نہیں دبی تو میں نے رویا میں ہی سمجھا کہ یہ اصلی گولی والا پستول نہیں بلکہ کھلونا ہے لیکن ایسا کھلونا ہے جو آج کل نئے بنے ہوئے ہیں یعنی وہ ایسا بھاری بنا ہوا تھا کہ بڑے بھاری پستول کے برابر معلوم ہو تا تھا پس میں نے اپنے دل میں سمجھا کہ اگر لبلبی دبی نہیں تو کوئی حرج نہیں میں اس کا کندہ جو بڑا بھاری ہے ان کے سر پر ماروں گا اور یہ بے ہوش ہو جائیں چنانچہ میں نے پستول کا کندہ ان غیر احمدیوں کے سر پر مارنے کی کوشش کی جو کود کر میرے سامنے آگئے تھے مگر چونکہ ایک دوسرے شخص نے میری کمر اور میرے ہاتھ پیچھے کی طرف سے پکڑے ہوئے تھے اس لئے جب میں کندہ مارتا تھا تو چوٹ اچھی طرح نہیں لگتی تھی اس طرح وہ بے ہوش ہو کر گرے تو نہیں مگر یوں معلوم ہوا جیسے نیم بے ہوشی کی حالت طاری ہو گئی ہے پیچھے کی طرف سے ہاتھ پکڑے ہوئے ہونے کی وجہ سے میرا ہاتھ کبھی کبھی اُچٹ بھی جاتا ہے اور اس طرح ان دو چار احمدیوں کو بھی جا لگتا ہے جو کود کر اندر آگئے ہیں میں ان کو بچانے کی کوشش کرتا ہوں مگر بوجہ اس کے کہ میرے