رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 600
600 سنتا رہا ہوں کہ انہوں نے اس درس سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور اپنی سروس کے دوران میں انہیں جہاں جہاں بھی جانے کا موقع ملا وہ درس دیا کرتے تھے اور لوگوں کو قرآن کریم کے مضامین سے واقف کیا کرتے تھے بہر حال میں نے رویا میں سمجھا کہ یہ ہاتھ چوہدری رحمت خاں صاحب کا ہے میں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا میں کتنی ہی دیر سے آپ کو تلاش کر رہا تھا آج آپ کو پکڑا ہے اور پھر اس خیال سے کہ انہیں علمی ذوق ہے اور قرآن کریم کے مضامین سے و فائدہ اٹھاتے رہے ہیں اور درس دیتے رہے ہیں میں نے کہا اندر آجاؤ تاکہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی کتابوں کے متعلق باتیں کریں چنانچہ میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور ان کو اندر کھینچ کر لے آیا اس وقت چند اور آدمی بھی اس صحن میں ہیں لیکن اس وقت وہ مجھے نظر نہیں آئے بعد میں ان میں سے بعض آدمی مجھے نظر آئے بہر حال میں ان کو لے کر صحن میں آگیا اور میں نے ان کو اپنے پہلو میں کھڑا کر لیا اور کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو کتابیں ہیں ان میں سے چشمہ معرفت میں بہت لطیف مضامین ہیں اور وہ مجھے بہت پسند ہے اس وقت میں نے دیکھا کہ سامنے ڈاکٹر شاہ نواز صاحب بیٹھے ہیں انہوں نے اس سال جلسہ سالانہ پر تقریر بھی کی تھی ڈاکٹر شاہ نواز صاحب کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب براہین احمدیہ " کو کوئی کتاب نہیں پہنچتی۔میں نے کہا ” براہین احمدیہ اپنی جگہ پر اچھی کتاب ہے اور بعض اور کتابیں بھی ہیں جن میں اپنی جگہ پر بڑے اعلیٰ درجہ کے مضامین ہیں چنانچہ اس وقت میرے ذہن میں آئینہ کمالات اسلام بھی آتی ہے لیکن چشمہ معرفت " کی یہ خوبی ہے کہ اس میں بہت سے مضامین چند سطروں میں آجاتے ہیں اور چند سطروں کے بعد مضمون بدلتا چلا جاتا ہے پس ” براہین احمدیہ اپنی جگہ پر اعلیٰ ہے اور بعض اور کتا بیں اپنی جگہ پر اعلیٰ ہیں مگر ان سب میں لمبے لمبے مضامین آتے ہیں لیکن چشمہ معرفت میں بہت سے مضامین کی تشریح آجاتی ہے اور چند سطروں میں آتی ہے اس لئے میں نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا کہ اپنے رنگ میں وہ اعلیٰ درجہ کی کتاب ہے اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔اس رویا میں بھی میں نے اپنے آپ کو قادیان میں دیکھا اور یہ بھی اتنی جلدی دیکھا کہ ابھی پچھلے ہفتہ میں میں نے ایک رؤیا سنائی تھی کہ میں مسجد مبارک میں پھر رہا ہوں اور مولوی عبد الکریم صاحب خطبہ پڑھ رہے ہیں اتنا تو ا تر جو خوابوں میں ہو رہا ہے اس کی بناء پر خیال آتا