رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 574

474 607 غالبا ستمبر 1955 فرمایا : میں واپسی کے وقت غالبا زیورک میں تھا کہ میں نے خواب دیکھی کہ میں ایک رستہ پر گزر رہا ہوں کہ مجھے اپنے سامنے ایک ریوالونگ لائٹ Revolving Light یعنی چکر کھانے والی روشنی نظر آئی جیسے ہوائی جہازوں کو رستہ دکھانے کے لئے منارہ پر تیز لیمپ لگائے ہوتے ہیں جو گھومتے رہتے ہیں۔میں نے خواب میں خیال کیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا نور ہے پھر میرے سامنے ایک دروازہ ظاہر ہوا جس میں پھاٹک نہیں لگا ہوا۔بغیر پھاٹک کے کھلا ہے میرے دل میں خیال گزرا کہ جو شخص اس دروازہ میں کھڑا ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کا نور گھومتا اس کے اوپر پڑے تو خدا تعالیٰ کا نور اس کے جسم کے ذرہ ذرہ میں سرایت کر جاتا ہے تب میں نے دیکھا کہ میرا لڑکا ناصر احمد اس دروازہ کی دہلیز پر کھڑا ہو گیا اور وہ چکر کھانے والا نور گھومتا ہوا اس دروازہ کی طرف مڑا اور اس میں سے تیز روشنی گزر کرنا صراحمد کے جسم میں گھس گئی پھر میں نے دیکھا کہ ناصر احمد دہلیز سے اتر آیا اور منور احمد نے اس کی طرف بڑھنا شروع کیا جس وقت مرزا منور احمد اس دہلیز کی طرف بڑھ رہا تھا میں نے دیکھا کہ اس نے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھے دایاں ہاتھ دائیں طرف اور بایاں ہاتھ بائیں طرف اور اس کے ساتھ ساتھ پہلو میں عزیزم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب جا رہے تھے مرزا منور احمد بڑھ کر اس دروازہ کی دہلیز پر کھڑا ہو گیا اور پھر پہلے کی طرح روشنی چکر کھا کے اس کی طرف آنا شروع ہو گئی اور اس کے جسم پر پڑنے لگی اس وقت میرے دل میں خیال گزرا کہ کاش چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے بھی اس کا ہاتھ پکڑا ہوا ہو تو اس میں سے ہو کر خدا تعالیٰ کا نور ان میں بھی داخل ہو جائے تب میں نے ذرا سا منہ پھیرا اور دیکھا کہ عزیزم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے عزیزم مرزا منور احمد کا دایاں ہاتھ پکڑا ہوا ہے اس پر میں نے دل میں کہا الحمد للہ چوہدری صاحب نے بھی عین موقع پر مرزا منور احمد کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اب انشاء اللہ منور احمد میں سے ہوتے ہوئے الہی نور چوہدری صاحب کے بھی سارے جسم میں گھس گیا ہو گا اس پر میری آنکھ کھل گئی۔خوابوں کے ساتھ یہ پہلو لگا ہوا ہوتا ہے کہ اگر انسان اپنے آپ کو ان کے مطابق بنانے کی