رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 573 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 573

473 مشاورت 1956ء صفحہ 82-81 الفضل 18۔نومبر 1955ء صفحہ 6 605 54۔جون 1955ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میرے سامنے کوئی شخص بیٹھا ہے اور میں نے کوئی فقرہ کہا ہے جس میں جماعت احمدیہ پر کچھ تنقید ہے میں نے محسوس کیا کہ اس دوسرے شخص نے تنقید کو نا پسند کیا ہے اور یہ سمجھا ہے کہ اس تنقید کو سن کر دشمن اور دوست دلیر ہو جائیں گے اور جماعت احمدیہ کا درجہ گرائیں گے اس کے بعد میرے دولڑکوں نے بھی اس قسم کا کوئی فقرہ کہا ہے اور ان دو لڑکوں میں سے ایک مرزا ناصر احمد معلوم ہوتے ہیں میرے لڑکوں کا فقرہ سن کے اس شخص کے چہرہ پر ایسے آثار ظاہر ہوئے کہ گویا وہ کہتا ہے دیکھئے جو میں سمجھا تھا ویسا ہی ہوا اس پر میں نے کہا کہ تم ان لڑکوں کی بات نہیں سمجھے انہوں نے تو وہ کہا ہے جو میں کہلوانا چاہتا تھا ان کے فقرے سے یہ مراد ہے کہ جماعت احمدیہ کے تقویٰ اور اخلاق کا مقام اونچا کرنا چاہئے اور ہم اب اس کے لئے کوشش کریں گے پھر میں نے کہا کہ اگر اسی طرح جماعت کے دوسرے مخلصین میں بھی احساس پیدا ہو جائے جو میری غرض تھی تو تھوڑے ہی عرصہ میں جماعت نہایت بلند روحانی معیار پر پہنچ جائے گی اور اس طرف توجہ دلانا میرا مقصود تھا پھر میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 14 - جون 1955ء صفحہ 3 غالبا 13۔اگست 1955ء 606 فرمایا : میں نے جاگتے ہوئے نظارہ دیکھا کہ آپ (حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مراد ہیں) سامنے ٹہل رہے ہیں اور ہشاش بشاش ہیں اور سوئی کا ہینڈل پکڑ کر پیچھے کی طرف لٹکایا ہوا ہے۔دو سرے ہی دن خط ملا جس سے معلوم ہوا کہ آپ کی طبیعت پہلے سے بہتر ہے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو بھی یہ رویا سنادی تھی۔مکتوب محر رہ 16 اگست 1955ء بنام حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بحواله الفضل 25۔اگست 1955ء صفحہ 3