رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 478

478 میرے کان سن رہے ہیں۔الفضل 15۔جون 1951ء صفحہ 4 -3 جون 1951ء 524 فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا جیسے کسی غیر احمدی رئیس نے میری دعوت کی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا میں لاہور میں ہوں۔میں چند دوستوں کے ساتھ مل کر دعوت کے لئے جا رہا ہوں راستہ میں ایک چوک پر میں نے دیکھا کہ ایک کتا تین زنجیروں سے بندھا ہوا ہے ان زنجیروں کی شکل اسی طرح ہے۔کنے کی گردن ایک زنجیر سامنے کی طرف ایک کیلے سے گاڑی ہوئی ہے ایک دائیں طرف ہے اور ایک بائیں طرف ہے یہ تینوں زنجیریں کتے کے پٹہ میں پڑی ہوئی ہیں۔وہ اپنے آپ کو چھڑوانے کی کوشش کرتا ہے مگر کامیاب نہیں ہو تا۔کوشش بھی اس کی زیادہ زور دار نہیں۔معمولی سی ہے مجھے اس پر رحم آیا اور میں نے وہ تینوں زنجیریں کھول دیں اور وہ آزاد ہو گیا۔آزاد ہونے پر اس نے جھر جھری لی اور میری طرف منہ کر کے انسان کی طرح باتیں کرنے لگا۔اس نے کہا آپ نے مجھے آزاد کروایا ہے اب میں آپ کی رفاقت نہیں چھوڑوں گا اور ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گا۔مجھے یہ بات دیکھ کر بہت تعجب ہوا کہ کتا انسانوں کی طرح باتیں کر رہا ہے میں نے اسے کہا کہ تم انسانوں کی طرح باتیں کر لیتے ہو۔کیا انسانوں کی طرح سیدھا چل بھی لیتے ہو۔اس نے کہا نہیں۔میں نے کہا۔ریچھ تو دو پاؤں پر چل لیتا ہے ( بعض قسم کا بندر بھی چل لیتا ہے مگر خواب میں مجھے بندر کا خیال نہیں آیا) اس نے جواب دیا کہ ہاں بعض قسم کے جانور بے شک چل لیتے ہیں لیکن عام طور پر جانور کا یہ خاصہ نہیں کہ وہ دو پیروں پر چلے۔اس کے بعد کچھ اور باتیں بھی