رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 477
477 ہوئی تھی تو میں نے دیکھا کہ کوئی احراری ملا بیٹھا ہوا ان لوگوں کے اندراحمدیت کے خلاف سخت غیظ و غضب سے بھری تقریر کر رہا ہے میں نے دل میں سوچا کہ اب تو شاید یہ لوگ ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھیں بلکہ شاید ہمیں بھی اس جگہ نماز پڑھنے سے روکیں مگر میرے جاتے ہی وہ ملا خاموش ہو گیا اور وہ لوگ جو غیر احمدی معززین تھے کمرہ میں ادھر ادھر پھیل کر بیٹھ گئے۔جب تکبیر ہونے لگی اور وہ لوگ نماز میں شامل ہونے لگے تو میں نے ان سے کہا کہ ہم لوگ سفر میں تھے اور ظہر کی نماز ادا نہیں کر سکے ہم نے پہلے ظہر کی نماز ادا کرنی ہے پھر عصر کی اور آپ لوگ تو شاید ظہر کی نماز پڑھ چکے ہوں گے۔اس پر وہ الگ الگ ہو گئے اور میں ظہر کی نماز پڑھانے کے لئے کھڑا ہوا وہ بڑھا آدمی جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔وہ ایک چادر لے کے ایک کو نہ میں لیٹ گیا اور اس نے اونچی اونچی آواز سے یہ کہنا شروع کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو سب چیزوں پر مقدم رکھتے تھے اگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اس طرح کرو تو اس طرح کرتے تھے اور اگر اللہ تعالیٰ فرماتا اس طرح کرو تو اس طرح کرتے تھے۔اور اگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اکڑ کر چلو تو اکٹر کر چلتے تھے اور اگر اللہ تعالیٰ فرماتا کہ لنگڑا کر چلو تو لنگڑا کر چلتے تھے جیسا کہ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی دفعہ مدینہ میں نماز جمع کی ہے بغیر اس کے کہ کوئی لڑائی ہو یا کوئی اور ایسا کام ہو ( احادیث میں آتا ہے کہ بغیر بارش اور بادل کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض دفعہ مدینہ میں نماز جمع کر لیا کرتے تھے) اس شخص کی یہ باتیں سن کر سمجھتا ہوں کہ یہ اپنے ساتھیوں کو بتانا چاہتا ہے کہ ان کے نماز جمع کرنے سے تمہارے دل میں کوئی شبہ پیدا نہیں ہونا چاہئے۔یہ جو کچھ کر رہے ہیں اسلام کے مطابق ہے اور اسلامی تعلیم پر عمل کرتے وقت کسی شخص کے طعن و تشنیع کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے پھر اس شخص نے کہا کہ نماز اگر پڑھ لی گئی ہو تو پھر بھی یہ ثابت ہے کہ اگر دوبارہ نماز پڑھ لی جائے تو کوئی حرج نہیں ہوتا اور یہ کہہ کے وہ اٹھاتا کہ وہ بھی ظہر کی نماز میں ہمارے ساتھ شامل ہو جائے اور اس کا اثر اس کے ساتھیوں پر پڑے اور وہ بھی شامل ہو جائیں لیکن پھر میں نے نہیں دیکھا کہ آیا وہ نماز میں شامل ہوا ہے یا نہیں مگر اس نظارہ کو دیکھ کر میری طبیعت میں بھی جوش پیدا ہوا اور کلمات تسبیح وغیرہ میں نے ایسی صورت میں کہنے شروع کئے کہ پاس کا بیٹھا ہوا آدمی سن سکتا تھا اس پر میری آنکھ کھل گئی اور میں نے دیکھا کہ فضاء میں تسبیح و تحمید کے گونجے ہوئے الفاظ