رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 479

479 اس سے ہوئیں اور وہ کتا بھی میرے ساتھ اس دعوت میں چلا گیا وہاں بہت سے لوگ جمع ہیں۔بیسیوں غیر احمدی مہمان بھی آئے ہوئے ہیں۔کھانے کا انتظام میزوں پر نہیں بلکہ فرش پر ہے اور گاؤ تکیے وغیرہ لگے ہوئے ہیں۔یہ بولنے والا کتا دیکھ کر لوگوں کی توجہ اور باتوں سے ہٹ گئی ہے اور زیادہ تر لوگ اس سے آ آ کر باتیں کرتے ہیں اور وہ بڑی سہولت اور آسانی سے جواب دیتا ہے لیکن ہے کتے کی شکل۔اسکی بیٹھک اور چال سب کتے والی ہے۔اور مجھ سے کچھ دور ہٹ کر مؤدب ہو کر بیٹھا ہوا ہے جیسے کتا اگلی ٹانگیں اٹھا کر اور پچھلی ٹانگیں بچھا کر بیٹھتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ کوئی جماعت یا کوئی فرد جو غیر تربیت یافتہ ہے اور اسلامی اخلاق سے بے بہرہ ہے لیکن سیاسی یا معیشتی یا عائلی جکڑ بندیوں میں پھنسا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ اس قوم یا اس شخص کو میرے ذریعہ سے نجات دے گا اور اس کے بعد اس کی ایک حد تک اصلاح ہو جائے گی اور وہ وفاداری کے ساتھ میرا ساتھ دینے پر آمادہ ہو جائے گا یا وہ قوم آمادہ ہو جائے گی۔(الفضل 15 - جون (41951 جون 1951ء 525 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میری ایک عزیزہ خاتون کہتی ہیں۔میں نے اپنے خاوند کی جدائی کو بھلانے کی کوشش کی تھی اور میں سمجھتی ہوں میں کامیاب ہوں گی لیکن فلاں فلاں حادثات کی وجہ سے میری کوشش ناکام ہوتی نظر آتی ہے۔الفضل 15۔جون 1951ء صفحہ 4 جون 1951ء 526 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ پر بیٹھا ہوں۔میری عمر جوانی کی ہے جیسے کوئی سترہ اٹھارہ سال کی عمر کا لڑکا ہوتا ہے میرے ساتھ ایک اور لڑکی بیٹھی ہوئی ہے جو کوئی سات آٹھ سال کی معلوم ہوتی ہے اس کے سر پر اوڑھنی ہے اور جیسے بچے بڑوں کی نقل میں بعض دفعہ پردے کا اظہار کرتے ہیں اس طرح وہ اوڑھنی منہ پر ڈالے بیٹھی ہے ہمارے سامنے کوئی بزرگ عورت ہیں لیکن نظر نہیں آتیں۔البتہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے سامنے ایک بزرگ عورت بیٹھی ہیں۔وہ بزرگ خاتون مجھ سے پوچھتی ہیں کیا تمہیں اپنی زندگی کا وہ واقعہ یاد ہے جب کہ