رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 378
378 اچھی زبان اردو ہے۔جو نہایت شیریں اور مطالب کے ادا کرنے پر بہت قادر ہے گاندھی جی نے اس کی تصدیق کی کہ واقعی اردو زبان اچھی ہے اس کے بعد میں نے کہا اردو زبان سے اتر کر پنجابی زبان اچھی ہے اس پر وہ کچھ حیرت میں پڑ گئے اور کہتے ہیں۔پنجابی ؟ میں نے کہا ہاں۔پنجابی زبان بھی اچھی ہے کیونکہ اس زبان میں اردو کے بعد مافی الضمیر خوب ادا ہو سکتا ہے میں نے بعض دفعہ پنجابی زبان میں تقریریں کی ہیں اور میں گھنٹہ گھنٹہ دو دو گھنٹے تک تقریر میں کرتا رہا مگر تقریر کرتے زبان رکتی نہیں ہے اسی اثناء میں مولوی محمد اسماعیل صاحب ( ترگڑی) والوں کا خیال آگیا کہ وہ پنجابی زبان میں نہایت عمدہ نظمیں کہتے ہیں ایسے عمدہ مضامین باندھتے ہیں جو نہایت اعلیٰ پایہ کے ہوتے تھے اس پر گاندھی جی کچھ حیران سے ہو گئے پھر وہ کہتے ہیں آپ نے عورتوں میں بھی تقریر کرنی ہے چنانچہ ہم دونوں وہاں سے اٹھ کر ایک جگہ گئے وہاں تھوڑی سی عورتیں بیٹھی ہیں کوئی آٹھ دس کے قریب ہوں گی یہ معلوم نہیں کہ وہ کس مذہب کی ہیں ان عورتوں کی تعداد دیکھ کر مجھے خیال گزرتا ہے کہ میں ان میں کیا تقریر کروں گا زیادہ ہوتیں تو کر دیتا گاندھی جی کو بھی اس کا احساس ہوا کہ عورتوں کی تعداد تو تھوڑی ہے اس لئے انہوں نے کہا چلئے پھر کبھی تقریر ہو جائے گی اس کے بعد کچھ اور نظارہ بھی تھا مگر وہ مجھے یاد نہیں رہا۔فرمایا : اس رویا سے میں سمجھتا ہوں کہ جیسا کہ موجودہ حالات کی وجہ سے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین صلح ہونی بالکل ناممکن ہے ان کا یہ خیال غلط ہے کیونکہ رویا میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ اور بظاہر اس رؤیا کا مفہوم بھی یہی ہے کہ صلح کی کوئی نہ کوئی صورت نکل آئے گی میرا گاندھی جی سے یہ کہنا کہ اردو زبان سب زبانوں سے اچھی ہے اس سے بھی ہندو مسلم اتحاد کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے پھر میرا یہ کہنا کہ اردو زبان سے اتر کر پنجابی زبان ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید سکھ قوم کی بھی دل جوئی ہو جائے بہر حال ابھی ایسا وقت نہیں آیا کہ صلح کے امکانات ہی نہیں رہے۔ہمیں اس طرف سے توجہ نہیں ہٹانی چاہئے لوگوں کا یہ خیال کہ صلح نہیں ہو سکتی غلط ہے۔یہ رویا اس طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ تھوڑی سی کوشش سے مسلمانوں کے حقوق تسلیم کرلئے جائیں گے گاندھی جی کا یہ کہنا کہ میں آپ کے ساتھ سوؤں گا اس کا مطلب بظاہر یہی ہے کہ وہ اکھنڈ ہندوستان کی شرط ضرور منوانا چاہتے ہیں اس طرح اردو اور پنجابی کا ذکر ہندوستان کی مختلف اقوام کے اتحاد کی طرف اشارہ