رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 379
379 کرتا ہے پھر عورتوں کا لیکچر نہ سننا۔اس سے شاید یہ مراد ہے کہ چونکہ ہندو عورتوں میں مردوں کی نسبت تفاخر کا جذ بہ زیادہ پایا جاتا ہے ممکن ہے وہ ہندو مردوں جتنا راضی نہ ہوں یا پھر عورتوں سے مراد تابع اور عوام الناس بھی ہو سکتے ہیں اور اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ عوام الناس اسے پسند نہ کریں گے مگر لیڈ ر راضی ہو جائیں گے۔الفضل 12۔اپریل 1947ء صفحہ 2 420 11 اپریل 1947ء فرمایا : تکل رات میں نے ایک رؤیا دیکھی ہے جو کہ آئندہ کے حالات کے متعلق معلوم ہوتی ہے میں نے دیکھا کہ میں ایک مکان میں ہوں اور خواب میں سمجھتا ہوں کہ قادیان سے باہر ہوں۔اونچا سا مکان ہے اس مکان کی شکل حضرت خلیفہ اول کے مکان کی سی ہے اس مکان کے مشرق کی طرف ایک دالان ہے اس میں میں آرام کرنے کے لئے گیا ہوں اور میرے ساتھ میری بیوی مریم صدیقہ معلوم ہوتی ہے اور اس مکان کے مغرب کی طرف ایک اور دالان ہے اس میں میری دوسری بیویاں اور بچے گھرے ہوئے ہیں اور درمیان میں صحن ہے اور پرے کر کے کچھ اور مکانات ہیں جن میں میرے ساتھ کے دوست ٹھرے ہوئے ہیں یکدم بہت شور و غوغا ہوا ہے۔میں اس شور کو سن کر باہر آیا ہوں اس وقت میاں شریف احمد صاحب کی آواز کہیں سے آئی ہے وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ فوج قابو سے نکل گئی ہے میں یہ سن کر جلدی سے اس دالان کی طرف جاتا ہوں۔جہاں میری بیویاں اور بچے ٹھرے ہوئے ہیں اور ان کو جلدی تیار ہونے کے لئے کہتا ہوں۔انہوں نے جلدی جلدی کپڑے پہن لئے ہیں۔ہم سب وہاں سے نکل کر مغرب کی طرف چل پڑے ہیں میں نے عورتوں کو آگے رکھا ہوا ہے اور مردوں کو پیچھے تاکہ جس رفتار سے عورتیں چل سکیں اسی رفتار سے آہستہ آہستہ مرد بھی ان کے پیچھے چلتے چلے جائیں کچھ دور جا کر کچھ کچے مکانات نظر آئے۔میں نے دیکھا کہ ہمارے پیچھے کچھ لوگ گھوڑے دوڑاتے ہوئے آ رہے ہیں۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ فوج نے اب اس طرف رخ کیا اور اب وہ جلدی جلدی ہماری طرف بڑھ رہی ہے۔جب وہ گھوڑ سوار ہمارے قریب آئے تو میں نے دیکھا کہ ان میں سے ایک میاں شریف احمد صاحب ہیں اور کچھ ہمارے اور ساتھی ہیں اس کے بعد ان کچے مکانات میں ہم داخل ہوتے ہیں جب میں اندر ایک کمرے میں داخل ہوا تو مجھے یکدم