رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 372

372 وہ ہیرے اور زمرد اتنے بڑے ہیں کہ اخروٹ سے بھی بڑے نظر آتے ہیں۔ایک زمرد جو اس وقت میری آنکھوں کے سامنے ہے وہ اتنا بڑا ہے کہ میں نہایت حیرت سے اس کو دیکھتا ہوں۔وہ سارے کے سارے ہیرے اور زمرد نہایت صاف ہیں اور کوئی داغ یا نشان ان میں نہیں ہے۔مہاراجہ صاحب پٹیالہ بھی اس زیور کو دیکھ رہے ہیں اتنے میں میں نے دیکھا کہ میری لڑکی امتہ القیوم بھی آگئی ہے وہ زیور کو دیکھ کر کہتی ہے باقی سب جگہوں پر تو ہیرے اور زمرد جڑے ہوئے ہیں لیکن کیا ہی اچھا ہو تا اگر درمیانہ چوکور مربع جگہ کے اندر بھی کوئی جو ہر ہوتا تب یہ زیور زیادہ خوبصورت نظر آتا جب میری لڑکی نے یہ کہا کہ اس مربع کے اندر بھی کوئی جو ہر ہونا چاہئے تھا تو میں نے دیکھا کہ وہ چو کو رسی بیچ والی چیز جس کے پہلو اٹھے ہوئے ہیں اور جو بجائے سونے کے چاندی کی ہے اور اس کے اندر گہرا سرخ رنگ بھرا ہوا ہے اس کے اندر سے روشنی آرہی ہے اس روشنی سے وہ سرخی اتنی تیز ہو جاتی ہے کہ نہایت خوش نما معلوم ہوتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں ان کے ارد گرد جو ہیرے اور زمرد دائروں کی شکل میں زیور پر جڑے ہوئے ہیں آپ کی اولاد یا خلفاء ہیں۔اس کے بعد میں اپنی لڑکی سے کہتا ہوں اس چوکور کے اندر کسی ہیرے یا زمرد کا نہ لگنا ہی اس کی اصل خوبصورتی ہے۔اس کے بعد میں نے اس چو کو رخانہ کی طرف نظر ڈالی جدھر سے روشنی آتی ہے تو میں نے دیکھا کہ اس طرف نیچے کی طرف سے ایک سوراخ ہے جس کے پہلو میں ایک تیز روشن بلب لگا ہوا ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ باوجو د بلب کھلا ہونے کے اس کی روشنی اور تو کسی طرف نہیں جاتی صرف اس چوکور کے اندر آتی ہے اور اس روشنی سے اس چوکور خانہ کی سرخی اتنی تیز اور خوش نما ہو جاتی ہے کہ لعل کو بھی مات کرتی ہے۔میں اپنی لڑکی سے کہتا ہوں کہ تمہارا یہ خیال کرنا کہ اس چوکور کے اندر بھی کوئی ہیرا یا زمرد ہونا چاہئے تھا تمہاری غلطی ہے یہ