رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 373

373 چوکور اس کے بغیر ہی ہونا چاہئے۔کیونکہ دوسری چیزیں جو ہیرے اور زمرد وغیرہ ہیں میں سمجھتا ہوں کہ ان کی بناوٹ میں انسانی کسب کا دخل ہے یعنی خلفاء اور اولاد اپنے متبوع یا اپنے آباء سے بھی علم سیکھتے ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اندر کسی کسب کا سوال نہ تھا انہوں نے سب کچھ براہ راست اللہ تعالیٰ سے سیکھا اس لئے چوکور میں کوئی جو ہر نہ ہونا چاہئے تھا جب میں یہ باتیں کر رہا ہوں (چونکہ میری نظر ظاہر میں بھی کمزور ہے) وہ ہیرے اور زمرد جو نظر آتے ہیں ان کے نیچے مجھے تو کوئی شعر نظر نہیں آتا مگر مہا راجہ صاحب پٹیالہ کہتے ہیں کہ ان کے نیچے کیسے عمدہ شعر لکھے ہوئے ہیں وہ کہتے ہیں ہر ہیرے اور زمرد کے نیچے ایک ایک شعر ہے انہوں نے کئی شعر پڑھے اور درمیان چو کو روالا شعر بھی پڑھا جب انہوں نے شعر پڑھا تو وہ بہت خوش معلوم ہوتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اب ان کی تسلی ہو گئی ہے اور ان کو یہ زیور پسند آگیا ہے اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ان شعروں سے معلوم ہو تا ہے کہ ہر ہیرے کی ایک کیفیت شعر میں بیان ہوئی ہے جو شعر مہاراجہ صاحب نے خالی چوکور خانہ کے نیچے پڑھا اس میں سے مجھے یہ الفاظ یاد رہ گئے " احمد مختار مجھے گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ مجھے "احمد مختار " کہتا ہے یا یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو کہ اصل "احمد مختار " تھے مجھے چاہتے ہیں اور مجھ سے پیار کرتے ہیں اس شعر کا صرف یہی حصہ یا د رہا باقی شعر میں اس وقت بھول گیا ہوں۔تعبیر : پٹیالہ سے میں سمجھتا ہوں کہ ممکن ہے اس رویا سے اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ کیا ہو کہ خود انہیں یا ان کی اولاد کو اللہ تعالیٰ ہدایت بخشے گا کیونکہ کسی سے خوبصورتی لینے سے مراد ایمان نصیب ہوتا ہوتا ہے اور پھر ان کو ایسا زیور پسند آجانا جس پر ”احمد مختار " کے الفاظ ہوں اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو یا ان کی اولاد کو ہدایت نصیب کرے گا۔الفضل 21۔جنوری 1947ء صفحہ 3۔نیز دیکھیں۔الفضل 5۔فروری 1948ء صفحہ 4 417 مارچ 1947ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک انگریز ڈاکٹر کو ہدایات دے رہا ہوں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی وباء پھیلی ہوئی ہے اور میں اس سلسلے میں ہدایات دے رہا ہوں۔ہے تو وہ ڈاکٹر