رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 371

371 416 8 جنوری 1947ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں کسی جگہ پر ہوں اور مہارا بہ صاحب پٹیالہ کی طرف سے مجھ سے خواہش کی گئی ہے کہ میں ان کے لئے زیور خریدوں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شیخ یعقوب علی صاحب یہ پیغام مہا راجہ صاحب کی طرف سے لائے ہیں میں ان سے کہتا ہوں کہ مجھے اس طرح زیور خریدنے میں تردد ہے کیونکہ ممکن ہے کہ اگر میں زیور خریدوں تو وہ مہاراجہ کو پسند آئے یا نہ آئے مگر شیخ یعقوب علی صاحب کہتے ہیں کہ مہاراجہ صاحب کا یہ پیغام ہے کہ آپ اپنی مرضی سے جو زیور خریدیں گے انہیں پسند ہو گا۔اس کے بعد یوں معلوم ہوتا ہے کہ مہاراجہ صاحب خود مجھ سے ملنے کے لئے آئے ہیں انہوں نے اس وقت ایسے زیورات پہنے ہوئے ہیں جیسے عام طور پر راجے مہاراجے پہنتے ہیں۔ان کا لباس بھی زرق برق ہے۔انہوں نے آکر مجھ سے مصافحہ کیا اور میں نے ان کو اپنے پاس بٹھا لیا۔ایک طرف میں بیٹھا ہوں درمیان میں مہا راجہ صاحب پٹیالہ اور ان کے پرے شیخ یعقوب علی صاحب بیٹھے ہیں اس وقت میں اپنے دل میں ارادہ کرتا ہوں کہ چونکہ مہاراجہ صاحب خود آگئے ہیں اس لئے اب میں ان کے سامنے ان کے لئے زیور خریدوں گا اس طرح ان کی مرضی معلوم ہو جائے گی۔میں یہ ارادہ کرہی رہا تھا کہ یکایک غیب سے ایک زیور میرے سامنے آگیا اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی زیور دکھاتا ہے وہ زیور ایک ہی ہے اور سامنے لٹک رہا ہے جیسے وہ ہوا میں معلق ہو۔کوئی آدمی نظر نہیں آتا جس نے اسے پکڑا ہوا ہو وہ زید رعام زیورات سے بہت بڑا ہے۔اس کی شکل اس قسم کی ہے جیسے سینہ پر پہننے والے ہاروں کے نیچے ٹیکے ہوتے ہیں مگر نی کے تو بہت چھوٹے ہوتے ہیں مگر وہ زیو را نتا بڑا ہے جیسے زرہ ہوتی ہے یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بیچ میں ایک چیز ہے جو چو کو رسی ہے۔اس کے کنارے اٹھے ہوئے ہیں اور بیچ سے وہ خالی ہے اس چوکور کے ارگرد بیضوی شکل میں ہیرے اور زمرد جڑے ہوئے ہیں اور غالبا تین قطاروں میں ہیں اس زیور کی شکل قریباً یوں بن جاتی ہے۔