رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 370
370 ساتھ لے آؤ مجھے خیال ہوتا ہے کہ وہ شخص حیا کی وجہ سے بھاگ نہ جائے اور اپنے دل میں کہتا ہوں کہ میں پہنچ کر اس کے کارنامے لوگوں کو سناؤں گا جب میں نے کہا کہ اس شخص کو لاؤ تو اچانک وہ شخص کہیں غائب ہو گیا دوست اس کو ڈھونڈنے لگے اور ایک شخص کو پکڑ کر میرے سامنے لائے جس کی داڑھی مونچھیں تھیں مگر میں کہتا ہوں کہ جس نے مارا تھا اس کی داڑھی مونچھیں بالکل نہ تھیں اور اس شخص کی داڑھی مونچھیں ہیں اس لئے یہ وہ شخص نہیں۔اتنے میں ہجوم میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور مجھ سے اس نے کوئی بات پوچھنی چاہی جو نہی میں نے اس کی طرف توجہ کی میں نے دیکھا کہ وہ سوال کرنے والا وہی نوجوان ہے اور میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر بعض دوسروں کے ہاتھ میں یہ کہہ کر پکڑوایا ہے کہ یہی شخص ہے جس نے آج ایسی خدمت دین کی ہے اسے میرے ساتھ لے آؤ مگر نہ معلوم میرے ہاتھ سے یا ان دوستوں کے ہاتھ سے چھٹ کر وہ پھر غائب ہو گیا۔فرمایا : خواب میں بغیر داڑھی اور مونچھوں کے نوجوان کو دیکھنے سے مراد فرشتہ ہوتا ہے اور پھر خواب میں اس شخص کا غائب ہو جانا بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ فرشتہ تھا کیونکہ ہم لوگوں کے سامنے اس کی تعریف کرنا چاہتے تھے اور بتانا چاہتے تھے کہ اس نے یوں بہادری کی اور یوں دشمن کو مارا مگر وہ غائب ہو گیا اور اس نے سمجھا کہ میں تعریف سے بالا تر اور مستغنی ہوں میں نے جو خواب میں دیکھا کہ میرا مخالف خود اپنے آپ کو مارتا ہے اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے نے ہی اسے مارا ہے اور میرا اس پر حملہ کرنا بلکہ اس کا خود اپنے آپ کو مارنا ظاہر کرتا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارے دشمنوں کی ہلاکت فرشتوں کے ہاتھوں سے ہوتی ہے۔خواب میں مجھے جو افغان دکھائے گئے ہیں ممکن ہے افغانستان میں تبلیغ کے لئے اللہ تعالٰی کوئی سامان پیدا کر دے۔اس وقت یہ حالت ہے کہ اکاد کا پٹھان یہاں آجاتا ہے اور بیعت کر جاتا ہے لیکن وہ شور نہیں جو صاجزادہ عبد اللطیف صاحب کی شہادت کے زمانہ میں ہوا تھا اور اس سے وہاں کے بہت سے لوگ متاثر ہو گئے تھے مگر اس خواب سے معلوم ہو تا ہے کہ اللہ تعالیٰ پھر وہاں تبلیغ کے سامان پیدا کرنا چاہتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہاں ہماری مخالفت پھر سے تیز ہو جائے گی لیکن خدا تعالیٰ ایسے سامان کرے گا کہ ہمارے دشمن خود بخود اپنے ہاتھوں ہلاک ہو جائیں گے۔الفضل 3۔جنوری 1947ء صلح 1-2