رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 369
369 ہوں کہ اس سے ان کا ارادہ شرارت کرنے کا ہے اتنے میں میرے ساتھیوں میں سے بھی ایک شخص نے کہا کہ یہ شرارت کر رہے ہیں۔میں نے دیکھا کہ ایک ایک احمدی پٹھان بیچ میں ہے اور ان کے دونوں طرف ایک ایک غیر احمدی پٹھان ہے جو ان کو کندھے مار رہے ہیں یعنی ایک ایک احمدی پٹھان کو دو دو غیر احمدی پٹھان باہر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔جب میں نے دیکھا کہ یہ شرارت بڑھتی جا رہی ہے میں اس تاڑ میں ہوں کہ اگر راستہ مل جائے تو میں دوسری طرف والے دوستوں کو بھی اس سے آگاہ کر دوں۔چلتے چلتے ایک جگہ میں نے دیکھا کہ باڑ میں ایک چھوٹا سا شگاف ہے میں نے ہاتھ سے اس شگاف کو بڑا کیا اور اس میں سے جھک کر دوسری طرف نکل گیا اور میرے راستہ پر جو متوازی جا رہا تھا دوسرے ساتھیوں کو اطلاع دی پھر ان کو ساتھ لے کر اس راستہ پر آیا جس پر غیر احمدی پٹھان جو احمدیوں پر حملہ کر رہے تھے چل رہے ہیں اور آکر ان پر حملہ کر دیا اور اس وقت مجھے تین چار ہی مخالف آدمی معلوم ہوتے ہیں اور جو میرے ساتھ ہیں وہ بھی تین چارہی ہیں۔ان مخالفین میں سے ایک کو میں نے پکڑ کر گرا دیا اور دوسروں۔کو میرے ساتھیوں نے ایک ایک کر کے پکڑ لیا اور گرا دیا اس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا با قاعدہ لڑائی یا جہاد ہو رہا ہے میں نے دوسرے ساتھیوں کی طرف تو نہیں دیکھا لیکن میں اس وقت تلوار نہیں چلا رہا بلکہ میرا مخالف خود اپنے آپ کو تلوار مار رہا ہے اور میں صرف اس کے سینے پر چڑھ کر بیٹھ گیا ہوں میں اس سے کہتا ہوں تمہیں تو تلوار چلانی نہیں آتی۔اس پر اس نے اپنے پیٹ میں چھری دور تک گھیر دی اور پھر اسے پیٹ میں چکر دیا اور کہا اب تو ٹھیک ہے۔میں نے کہا۔ہاں اب ٹھیک ہے اس کے بعد وہ مر گیا اور میں اس کے سینہ پر سے اٹھ کھڑا ہوا اس وقت نہ مجھے کوئی لاش نظر آتی ہے اور نہ کوئی دشمن نہ میرا ساتھی تب میں قادیان کی طرف چل پڑا۔راستہ اور جہت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوب کی طرف سے جس طرف مقبرہ بہشتی ہے قادیان کی طرف آرہا ہوں اس وقت ایک نوجوان آدمی میرے ساتھ ہے گو میں نے لڑائی کے وقت اسے نہیں دیکھا تھا مگر اس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس نے سب مخالفوں کو مارا ہے۔میں اپنے دل میں کہتا ہوں کہ جب میں جماعت میں پہنچوں گا تو لوگوں کو بتاؤں گا کہ اس شخص نے دشمنوں کو مارا اور یوں بہادری کی۔جب میں قادیان کے پاس پہنچاتو وہاں دیکھا کہ سڑک پر بہت سے آدمیوں کا ہجوم ہے جیسے کوئی جلسہ ہو رہا ہے۔میں نے دوستوں سے کہا کہ اس شخص کو