رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 360

3۔360 گورنمنٹ کا عندیہ معلوم ہو جائے جب میں وہاں سے اٹھ کر اس غرض کے لئے چلا کہ میں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کو بلاؤں اور میں ان دوستونوں سے پرے پہنچا ہوں (حضور نے محراب کے پاس مجلس میں تشریف رکھتے ہوئے مسجد مبارک کے دائیں طرف کے دوستونوں کی طرف اشارہ کیا جو سابق مسجد کے پاس ہیں) تو وہاں میں دیکھتا ہوں کہ کوئی پادری کھڑا ہے اس کا قد بہت لمبا ہے کوئی آٹھ نو فٹ ہے وہ بڑے موٹے آدمی سے بھی دگنا موٹا ہے اور ایک دیو کی طرح معلوم ہوتا ہے۔ایک جبہ اس نے اپنے کندھوں پر ڈالا ہوا ہے ایسا جبہ جو علماء یا پادری عام طور پر استعمال کرتے ہیں اس پادری نے مجھ سے مصافحہ کیا اور بڑے جوش سے میری طرف جھک گیا وہ مجھ سے آہستہ آہستہ باتیں کرنے لگا اور مجھے کہنے لگا کہ آپ کو اپنا موجودہ رویہ بدل لینا چاہئے اور یہ طریق اختیار نہیں کرنا چاہیئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ مجھ پر اس بارے میں زور دیتا ہے کہ آپ آزادی کی جدوجہد میں حصہ نہ لیں۔میں ان کو ٹلاتا ہوں کہ میں اس سے کیوں بات کروں میں دل میں کہتا ہوں کہ میں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سے بات کروں گا جو ایک ذمہ دار شخص ہیں۔(جن کو میں خواب میں وائسرائے کا نمائندہ سمجھتا ہوں) مگر وہ پادری وحشی کی طرح مجھ پر جھکتا چلا آتا ہے اور مجھ پر دباؤ ڈالتا ہے میں اپنے ساتھیوں سے کہتا ہوں کہ اس کو ہٹاؤ جب اس کو ہٹا دیا گیا تو میر محمد اسماعیل صاحب نظر آئے وہ مسجد مبارک کے پرانے حصہ میں کھڑے تھے میں نے ان سے کہا کہ میں آپ سے کچھ بات چیت کرنی چاہتا ہوں مگر میں نے خیال کیا کہ دوستوں کے سامنے بات کرنا مناسب نہیں میں ان کو پہلے سابق مسجد کے آخری مغربی ستون کی طرف لے گیا پھر وہاں بھی آدمی دیکھ کر انتہائی مغربی چھت کی طرف لے گیا پھر وہاں بھی یہ خیال کر کے کہ لوگوں تک آواز پہنچ جائے گی میں نے کہا چلئے بیت الذکر میں بات کرتے ہیں (مسجد کے ساتھ کا شمالی حجرہ جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام عبادت و تحریر کا کام کیا کرتے تھے) میں بیت الذکر میں بیٹھ گیا اور میر محمد اسماعیل صاحب میرے سامنے بیٹھ گئے۔اتنے میں دروازہ کھلا اور حضرت اماں جان) نے دروازہ سے اندر جھانکا اور میر محمد اسماعیل صاحب نے کہا آئیے بیٹھ جائیے۔میں دل میں سمجھتا ہوں عورتوں کا دل نرم ہوتا ہے اور حضرت اماں جان تو بہت ہی نرم دل ہیں ایسا نہ ہو ہماری باتیں سن کر ان کو تکلیف پہنچے کیونکہ یہ باتیں ایسی ہیں جن میں گورنمنٹ سے ٹکر لینے کا ذکر آئے گا اس لئے میں دل میں نہیں چاہتا کہ حضرت اماں جان وہاں بیٹھیں چونکہ میر