رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 359

359 نے بھی اس وقت اس طرح کیا ہے اس وقت ایک فقرہ جو بالکل موزوں معلوم ہوتا ہے اور اس میں روشنی کا لفظ ہے یا نور کا لفظ ہے اور یہ بھی الفاظ ہیں کہ ہمیشہ تک قائم رہے گی۔(مسجد میں خواب سناتے ہوئے مجھے کچھ حصہ بھول گیا تھا بعد میں یاد آیا کہ لڑکے کا فقرہ انہوں نے یہ بتایا تھا کہ یہ شمع ہمیشہ جلتی رہے اور ان کا فقرہ یہ تھا یہ روشنی کبھی نہ بجھے گی) اس کے بعد میں نے کہا اب روشنی کافی ہو گئی ہے اب کوئی خطرے کی بات نہیں۔اس خواب سے معلوم ہوتا ہے کہ عید پر خطرہ ہے کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان فسادات نہ ہو جائیں شہروں میں تو عموماً ہمیشہ اس عید پر گائے کی قربانی کی وجہ سے فساد ہوتا ہے اور آج کل فریقین کی طبائع میں اشتعال بھی بہت زیادہ ہے اور یہ دعا کے الفاظ جو آئے ہیں کہ یہ شمع کبھی نہ بجھے۔یہ الفاظ ہماری دائی ترقی اور نور کے قائم رہنے کے لئے دعا ہے دوسرا فقرہ کہ یہ روشنی کبھی نہ بجھے گی۔یہ ایک زبر دست بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ میری اسلام کے لئے کوششوں کو بار آور کرے گا اور ان کے نیک نتائج کو دوام بخشے گا اس قسم کا فقرہ ہمارے لئے ایک قسم کی بشارت ہے۔الفضل 4۔نومبر 1946 ء صفحہ 4-3 411 3 نومبر 1946ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ میں اسی مسجد میں ہوں (مسجد مبارک میں) اور وسط مسجد میں بیٹھا ہوں کچھ اور دوست بھی بیٹھے ہیں ہندوستان کی آزادی کے متعلق باتیں ہو رہی ہیں " تفصیل اس وقت یاد نہیں) اور معلوم ہوتا ہے کہ میں ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں کچھ حصہ لے رہا ہوں انگریزی حکومت اسے ناپسند کرتی ہے۔دوست مجھے کہہ رہے ہیں کہ اس کے متعلق کوئی تدبیر اختیار کرنی چاہئے ایسا نہ ہو کہ حکومت آپ کے خلاف کوئی اقدام کرے جو مضر اور نقصان دہ ثابت ہو۔دوستوں کی یہ بات سن کر میں ان کو تسلی دیتا ہوں۔اس وقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب وائسرائے کے نمائندے ہیں جب دوستوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ ہمیں اس کے متعلق کچھ کرنا چاہئے تو میں ان سے کہتا ہوں کہ میں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سے جو وائسرائے کے نمائندے ہیں اس کے متعلق بات چیت کروں گا تا