رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 361
361 صاحب نے کہا کہ آکر بیٹھ جائیں تو میں خاموش ہو گیا۔میں نے ان کے بیٹھ جانے کے بعد میر محمد اسماعیل صاحب سے کہا کہ لوگ اس طرح کہہ رہے ہیں میں آپ سے بات کر کے اس کے متعلق فیصلہ کرنا چاہتا ہوں۔لوگ کہتے ہیں کہ اگر آپ نے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا تو گورنمٹ آپ کو گرفتار کر کے سزا دے گی مگر میں جو کچھ کر رہا ہوں بالکل ٹھیک کر رہا ہوں اور میں اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہوں اور جو کام اللہ تعالیٰ نے میرے سپرد کیا ہے وہ میں نے بہر حال کرنا ہے اس کے بعد میں نے جوش میں آکر کہا گو ر نمنٹ زیادہ سے زیادہ یہی کرے گی کہ مجھے قید کرے گی یا کوئی اور سزا دے دے گی اگر خدا تعالیٰ کا منشاء اسی طرح ہے کہ میں قید ہو جاؤں یا مارا جاؤں تو میں کیا کر سکتا ہوں اور مجھے اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ کا منشاء اس طرح نہیں تو وہ خود میری حفاظت کرے گا اور پہلی ہی رات جس میں مجھے جیل میں رکھا جائے گا اس میں ہندوستان کے بڑے افسر بھی مر جائیں گے اور انگلستان کے بڑے افسر بھی مر جائیں گے اور میں نے اس پادری کا بھی ذکر کیا اور اس پر شبہ ظاہر کیا کہ یہ پادری شاید گورنمنٹ کی طرف سے مقرر ہے۔میری بات سن کر میر صاحب نے اس امر کی تردید کی کہ گورنمنٹ میرے خلاف کوئی قدم اٹھانا چاہتی ہے اور پادری کی نسبت کہا کہ اس نے مجھ سے یہ باتیں بیان کی ہیں مگر وہ تو پاگل ہے گورنمنٹ کو اس سے کوئی تعلق نہیں جب میں نے یہ کہا کہ زیادہ سے زیادہ گورنمنٹ یہی کرے گی کہ مجھے قید کرے گی یا کوئی جسمانی سزا دے گی تو ایسا کہتے وقت میرا خیال تھا کہ اماں جان کو یہ الفاظ سن کر تکلیف ہوگی مگر میرا یہ فقرہ سن کو اماں جان کے چہرے پر کوئی گھبراہٹ کے آثار نہ پیدا ہوئے۔بلکہ وہ اطمینان سے بات سنتی رہیں پھر جب میں نے کہا کہ قید ہونے پر پہلی ہی رات جو مجھے جیل میں آئے گی اسی رات ( اس ظلم کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت) ہندوستان کے ذمہ دار افسر بھی مر جائیں گے اور انگلستان کے چوٹی کے افسر بھی مر جائیں گے تو اماں جان نے کہا۔درست ہے میں نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کسی بزرگ نے کہا ہے کہ خداتعالی بڑے بڑے بادشاہوں کو جب وہ ظلم کریں یوں مٹا دیتا ہے اور یہ کہتے ہوئے اپنے ہاتھ کو اس طرح حرکت دی جس طرح مٹی کو ہموار کرنے کے لئے ہاتھ ہلاتے ہیں۔یہ سن کر معا مجھے خیال آیا کہ اس قول کو ایک شاعر نے بھی باندھا ہے اور اس کے بعد یہ مصرعہ میرے