رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 358
358 ہے کہ حضرت اماں جان) نے چیخ ماری ہے میں لوگوں کو کہتا ہوں دوڑ کر جاؤ وہاں سانپ ہے تو کسی نے کہا کہ سانپ وہاں نہیں بلکہ یہاں تھا اور اس کو مار دیا گیا ہے وہ یا تو دو سانپ ہیں یا دومنہ کا سانپ ہے کسی نے مجھے اس کے ٹکڑے بھی دکھائے ہیں اس کے بعد مجھے خیال آیا کہ اتنے اندھیرے میں یہاں کوئی روشنی کا انتظام ہونا چاہئے۔ایسا نہ ہو اور سانپ نکلیں میں اپنے ساتھیوں سے پوچھتا ہوں کسی کے پاس ٹارچ ہے۔اس وقت بھائی عبد الرحمان صاحب قادیانی نظر آتے ہیں انہوں نے یا ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے ساتھی نے مجھے اپنی ٹارچ دی مگر اس کی روشنی اتنی مدھم ہے جیسے جلاتے رہنے سے خرچ ہو چکی ہے اس لئے میں خیال کرتا ہوں کہ اتنا اندھیرا ہے اگر واپس جاتے ہوئے روشنی کی ضرورت پڑی تو یہ ٹارچ بھی جلانے کی وجہ سے بیکار ہو چکی ہوگی کیونکہ اس کی روشنی تو اب بھی بہت مدھم ہے اس لئے اس کو نہیں جلانا چاہئے اور میں نے دوستوں سے کہا کچھ موم بتیاں لاؤ۔میرے سامنے سو گز کے فاصلے پر کچھ احمدی بیٹھے ہوئے ہیں سامان ٹھیک کر رہے ہیں جب میں نے کہا۔موم بتیاں لاؤ تو وہاں سے بھائی عبد الرحمان صاحب قادیانی نے کھڑے ہو کر کہا کہ میں موم بتیاں لاتا ہوں اور ایک بنڈل دکھایا اس سے پہلے وہ ان آدمیوں میں تھے جو میرے پیچھے نماز کے انتظار میں بیٹھے تھے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اڑ کر وہ اس دوسری جگہ کو پہنچ گئے اور بنڈل لے کر میرے پاس آگئے۔اور بنڈل میں سے ایک موم بتی نکالی اور اس کو جلانا چاہا میں نے بھی اس خیال سے کہ شاید ایک آدمی یہ کام آسانی سے نہ کر سکے اور دیا سلائی ہوا کی وجہ سے بجھ جائے۔خود ایک دیا سلائی جلائی اور بھائی جی سے کہا کہ موم بتی قریب کریں کہ میں جلا دوں اس عرصہ میں انہوں نے خود بھی جلالی تھی مگر جب انہوں نے دیا سلائی قریب کرتے ہوئے دیکھا تو فور آ شمع بجھا کر میری طرف بڑھا دی اور یہ ادب سے انہوں نے کیا ہے تاکہ میری جلائی ہوئی دیا سلائی ضائع نہ ہو جائے میری دیا سلائی سے بتی جلاتے ہوئے انہوں نے اپنے ایک بیٹے کا ذکر شروع کر دیا کہ بڑا سعید لڑکا ہے اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان سے اتنی محبت ہے اور اتنا احترام ہے کہ جب اس نے اپنی بتی جلائی اور دیکھا کہ حضرت صاحب میری طرف اشارہ تھا) نے بھی دیا سلائی جلائی ہے تو اس نے اپنی بچی کو فور آبجھا دیا اور ان سے دیا سلائی لے کر اپنی بھی کو روشن کر لیا اور کہا یہ روشنی اب کبھی نہ بجھے گی وہ اس واقعہ کو بڑے اخلاص سے بیان کر رہے ہیں ان کا مطلب یہ ہے کہ میں