رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 32

32 اس نے میرے قلب پر یہ مصرعہ نازل فرمایا شکر اللہ مل گیا ہم کو وہ لعل بے بدل " اتنے میں مجھے ایک شخص نے جگا دیا اور میں اٹھ کر بیٹھ گیا مگر پھر مجھے غنودگی آئی اور میں اس غنودگی میں اپنے آپ کو کہتا ہوں کہ اس کا دوسرا مصرعہ یہ ہے کہ کیا ہو اگر قوم کا دل سنگ خارا ہو گیا مگر میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ میرا مصرعہ الہامی تھا یا بطور تفہیم تھا۔"کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے " 12 مارچ 1914ء 46 فرمایا : جماعت پر اس وقت ابتلاء آیا جب حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی وفات کے بعد پیغامی فتنہ اٹھا اور جماعت کے اعلیٰ کارکن علیحدہ ہو گئے۔خزانہ خالی تھا اور جماعت کا بیشتر حصہ ان کے ساتھ تھا اس وقت بھی اکثر لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ اب یہ کام کیسے چلے گا لیکن اللہ تعالٰی نے اپنے فضل سے اس مایوسی کی حالت کو دیکھ کر مجھے بتایا ”خدا تعالیٰ کے کام کو کوئی نہیں روک سکتا الفضل 12۔جون 1935ء صفحہ 4 نیز دیکھیں۔الفضل 5 اپریل 1940 ء صفحہ 3 و 23 اکتوبر 1948 ء صفحہ 4 و خلافت راشدہ صفحہ 260 47 مارچ 1914ء فرمایا : کل بھی میں نے اپنے رب کے حضور میں نہایت گھبرا کر شکایت کی کہ مولا ! میں ان غلط بیانیوں کا کیا جواب دوں جو میرے برخلاف کی جاتی ہیں اور عرض کی کہ ہر ایک بات حضو ر ہی کے اختیار میں ہے اگر آپ چاہیں تو اس فتنہ کو دور کر سکتے ہیں تو مجھے ایک جماعت کی نسبت بتایا گیا کہ ليمز قنَّهُمْ یعنی اللہ تعالی ضرور ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔("کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے " صفحہ 12 نیز دیکھیں۔الفضل 21 - اکتوبر 1915 ء صفحہ 8 و 9۔مئی 1933 ء صفحہ 7 و 12۔جون 1935ء صفحہ 4 و 9۔جولائی 1937ء صفحہ 5 و 5 اپریل 1940ء صفحہ 3 و 5 - جون 1940 ء صفحہ 3 و 7۔مارچ 1944 ء صفحہ 4 و 25۔جون 1944ء صفحہ 2 و